شاہراہ پر بندشوں سے کروڑوں کا نقصان,

,

سرینگر جموں شاہراہ پر ہفتے میں جو دو دنوں کی بندش رکھی گئی ہے پوری دنیا میں اس کی مثال کہیں نہیں ملے گی کیونکہ اس سے عام زندگی جہاں متاثر ہوتی ہے وہاں تاجروں کا کروڑوں کا نقصان ہورہا ہے۔ سرکارکا کہنا ہے کہ فورسز کانواے کو تحفظ فراہم کرنا ضروری بن گیا ہے لیکن حکومت کو عام لوگوں کا بھی سوچنا چاہئے کیونکہ موجودہ کمپوٹر دور میں جب انسان نت نئے ایجادات کررہا ہے اسے ہر ہفتے دو دنوں تک زبردستی گھر میں بٹھانا کس طرح حق بجانب کہا جاسکتا ہے۔ حال ہی میں ایک فوٹو اخبارات میں شایع ہواتھا جس میں مگس بان فوٹوگرافروں کو وہ لاکھوں شہد کی مکھیاں دکھارہے تھے جو شاہراہ پر ٹریفک کی بندش سے موت کے منہ میں چلی گئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے نوجوانوں نے سرکاری نوکریوں کے بجائے خود اپنے یونٹ چالو کئے اور بیشتر نوجوانوں نے مگس بانی کا پیشہ اختیار کیا اور اس مقصد کےلئے انہوں نے بنکوں سے قرضہ بھی لیاہے لیکن شاہراہ بند ہونے سے ان کی لاکھوں مکھیاں لقمہ اجل بن گئیں اور ان کا سارا کاروبار چوپٹ ہوگیا۔ اسی طرح میوہ بیوپاری الگ سے پریشان کیونکہ بعض میوے ایسے ہیں جو اگر راستے میں پڑے رہیں تو وہ خراب ہوجاتے ہیں اور ایسا کون سا خریدار ہوگا جو خستہ اور سڑا ہوا میوہ خریدے گا۔ اسی طرح قصاب کوٹھدار بھی الگ سے مایوس اور غم زدہ ،ان کا کہنا ہے کہ جب بھیڑ بکرے راستے میں رُک جاتے ہیں تو ان کےلئے چارہ اور پانی کی فراہمی نا ممکن بن جاتی ہے ان حالات میں درجنوں بھیڑ اور بکرے مر جاتے ہیں اسی طرح برایلئر مرغ بھی سینکڑوں کی تعداد میںموت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ اس طرح پولڑی والے بھی ناخوش و ناراض۔ جس کسی افسر یا ادارے نے یہ فیصلہ کیاہوگا وہ کسی بھی صورت میں انسان دوست نہیں ہوسکتا ہے۔ ایک مقامی اخبار نے حال ہی میں ایک خبر شایع کی ہے جس میں اخبار یوں رقمطراز ہے کہ اگر شاہراہ پر پندرہ روز تک بندشیں جاری رہینگی تو تاجروں کا پندرہ سو کروڑ کا نقصان ہوگا۔ کیونکہ بقول تاجر بارہ ہزار مسافر و مال بردار گاڑیاں شاہراہ پر زبردستی روکی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ بیماروں کا خدا ہی حافظ۔ گذشتہ بدھوار یعنی 10اپریل کو فورسز نے شاہراہ پرچلنے والے اس شخص کو بھی روکا جو اپنی سائیکل پر دفتر جارہاتھا اسے بھی آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ حالات کی بنا پر بہت سے انگلش میڈیم سکولوں کی انتظامیہ نے سیلبس پورا کرنے کےلئے اتوار کی چھٹیاں منسوخ کردیں لیکن اب ان کا سیلبس کہاں پورا ہوگا بلکہ ہفتے میں دو دنوں تک شاہراہ بند رہنے سے بچوں کی پڑھائی بری طرح متاثر ہوگئی ہے۔ کوئی بھی ٹیچر یا دوسرے ملازمین اپنی اپنی ڈیوٹیوں پر حاضر نہیں ہوسکتے ہیں ان کے تعلیمی ادارے یا دفاتر بائی پاس یا ہائی وے کے قریب ہونگے۔ بہت سے ایسے ملازمین، ٹیچر یا ڈاکٹر اپنی اپنی ڈیوٹیوں پر اس لئے حاضر نہیں ہوسکتے ہیں کیونکہ ان کو ہر صورت میں بائی پاس یا شاہراہ کے دوسری طرف جانا ہوتا ہے اور جب ان کو ادھر ادھر جانے کی اجازت ہی نہیں دی جاتی ہے تو وہ کس طرح اپنے فرایض انجام دے سکتے ہیں۔ اسی لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ سرکار اس فیصلے پر نظر ثانی کرے اور کانواے کےلئے کوئی ایسا سیکورٹی انتظام کرے جس سے فورسز اہلکاروں اور فوجیوں کو بھر پور تحفظ فراہم کیاجاسکے اورلوگوں کو بھی کوئی تکلیف یا مالی نقصان نہ ہو۔

,
مزید دیکهے

متعلقہ خبریں