وادی میں تعمیراتی پروجیکٹوں پر لٹکتی ننگی تلوار بائیکاٹ کے دوران سڑکوں کی حالت نا گفتہ بہہ ،لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا

سرینگر/کے این ایس/وادی میں تعمیراتی و ترقیاتی پروجیکٹوں پر ننگی تلوار لٹک رہی ہے،کیونکہ تعمیراتی معماروں کے ترقیاتی کاموں کے بائیکاٹ کی کال کا اثر صاف دیکھنے کو مل رہا ہے۔ گورنر انتظامیہ اور تعمیراتی معماروں کے درمیان ہڑتال کو ختم کرنے کی بات چیت کے بعد اگر چہ33کروڑ روپے واگزار کئے گئے،تاہم ٹھیکداروں کا کہنا ہے کہ1150کروڑ روپے واجب الادا رقومات میں سے واگزار کی گئی رقم’’اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے ۔ ‘‘  موسم بہار کی دستک کے باوجود جہاں سرینگر سمیت وادی کے دیگر علاقوں مین سڑکوں کی حالت انتہائی خستہ ہوچکی ہے،وہی ٹھیکداروں کی ہڑتال کے نتیجے میں بڑے و چھوٹے ترقیاتی پروجیکٹوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں،جس کے نتیجے میں وہ وقت پر مکمل نہیں ہوسکتے۔تعمیراتی ٹھیکداروں کی طرف سے پائے تکمیل تک پہنچائے گئے کاموں کے واجب الادا رقومات کی عدم ادائیگی کے خلاف ٹھیکداروں کی ہڑتال25دنوں سے جاری  ہے،اور ختم ہونے کا نام بھی نہیں لئے رہی ہے۔ادھرتعمیراتی  معماروں کے ٹینڈر اور ترقیاتی کاموں کے بائیکاٹ کے نتیجے میں جہاں بڑے پروجیکٹوں پر کام کاج ٹھپ ہوکر رہ گیا،وہی نئے مالی سال کے آغاز میں ہی ترقیاتی کاموں کیلئے ٹینڈروں کا سلسلہ بھی ٹھپ ہوکر رہ گیا۔ادھر تعمیراتی معماروں کے ہڑتال کے نتیجے میں سڑکوں کی مرمت اور تجدید کاری کے کام میں بھی رکاوٹیں کھڑی ہوئی ہیں،جس کی وجہ سے عام لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اپریل کے ماہ میں سڑکوں کی مرمت کا کام محکمہ تعمیرات عامہ ہاتھوں میں لیتا تھا،اور موسم سرما میں بارشوں اور برف باری کی وجہ سے خراب ہوئی سڑکوں کی مرمت کی جاتی تھی،تاہم ٹھیکداروں اور میگڈم پلانٹ مالکان کے ہڑتال کے نتیجے میں یہ کام بھی رکا ہوا ہے۔ سڑکوں کی خستہ حالت کی وجہ سے عام لوگوں بالخصوص بیماروں، طلاب اور دیگر مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہڑتال کو ختم کرنے کیلئے اگر چہ ریاستی گورنر کے مشیر برائے خزانہ کے کے شرما کے علاوہ خورشید احمد گنائی ا ور جوائنٹ کانٹریکترس کارڈی نیشن کمیٹی کے درمیان بات چیت ہوئی،تاہم ابھی تک اس کے نتائج سامنے نہیں آئے۔محکمہ تعمیرات عامہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ تعمیراتی ٹھیکداروں کی طرف سے ٹینڈروں کے بائیکاٹ کے نتیجے میں سال بھر ترقیای کاموں پر منفی اثرات مرتب ہونگے۔ان ذرائع نے بتایا’وادی میں پہلے ہی سردیوں کے ایام میں3ماہ میں کوئی کام نہیں ہوتا،اور اب گزشتہ ایک ماہ سے تعمیراتی ٹھیکدار بھی ہڑتال پر ہے،اور مزید وقت ضائع ہو رہا ہے۔

/جاری صفحہ ۱۱ پر،جس کا اثر براہ راست سال بھر کے کاموں پر پڑے گا۔‘‘ محکمہ تعمیرات عامہ کے ذرائع نے بتایا کہ مالی سال کے آغاز میں تاخیر کا مطلب یہ ہے کہ تمام نئے پروجیکٹ تاخیر سے شروع ہونگے،اور وقت پر مکمل نہیں ہونگے۔‘‘

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں