قیمتو ں میں بے اعتدالی اور صوبائی انتظامیہ کی بے بسی

وادی میں خراب موسمی صورتحال کے نتیجے میں لوگوں نے پھر سے گر م ملبوسات کا استعمال شروع کیا۔ سردی کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ گھروں میں کانگڑیاں استعمال کی جانی لگیں۔ لیکن موسم کی خرابی کے برے اثرات سب سے زیادہ زراعت پر پڑے اور کھڑی فصلوں کے علاوہ، میوہ اور سبزیوں کو بھی نقصان پہنچا۔ کسان پریشان، فروٹ گروورس فکر مند اور سبزی بیوپاری تشویش میں مبتلا۔ بارشوں اور سردی کی وجہ سے سب سے زیادہ جنوبی کشمیر متاثر ہوا جہاں گذشتہ دنوں وزنی اولے گرتے رہے جس نے رہی سہی کسر پوری کردی۔ ژالہ باری جتنی دیر تک رہی اس نے درختوں کو بالکل ننگا کردیا یعنی سرسبز درختوں کے پتے اس طرح جھڑ گئے جس طرح خزان میں درختوں سے پتے گرتے ہیں۔ درختوں پر جو میوہ تھا وہ سب زمین پر گرگیا اور فرووٹ گروورس ہاتھ ملتے رہ گئے ۔ اسی طرح سرسوں کی فصل جوپورے شباب پرتھی لیکن ژالہ باری نے اسے بھی تباہ کرکے رکھ دیا جبکہ سبزیاں بھی بری طرح متاثر ہوگئیں اس وقت مارکیٹ میں سبزیوں کے دام بہت زیادہ بڑھادئے گئے ہیں چونکہ یہاں صوبائی انتظامیہ خواب خرگوش میں ہے اسلئے دکاندار بلا پوچھے لازمی اشیا کی قیمتیں از خود مقرر کرتے ہیں اور متعلقہ حکام منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ جہاں تک عام استعمال کی چیزوں کا تعلق ہے تو ان کی قیمتوں کے تعین کے حوالے سے حکومت پوری طرح بے نقاب ہوکر رہ گئی ہے کیونکہ دکاندار حضرات نے یہ پورا معاملہ از خود سنبھالا ہوا ہے اور وہ جو چاہتے ہیں اتنی قیمت مقرر کرتے ہیں ۔ جب کوئی دکاندار اور خاص طور پر سبزی فروش یا قصاب سے سوال کرتا ہے اور پوچھتا ہے کہ سبزیوں اور گوشت کی قیمتیں کس نے مقرر کی ہیں تو ان کا جواب ہوتا ہے کہ وہ قیمتوں کا تعین از خود کرتے ہیں سرکار کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں اور عملی طور پر یہ سچ بھی ثابت ہورہا ہے کیونکہ قصابوں نے گوشت کی جو قیمت چاہی مقرر کردی صوبائی انتظامیہ خاموش لیکن سبزی فروش سبزیوں کے جتنے دام چاہتے ہیں مقرر کرتے ہیں کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں ہوتا ہے۔ ان حالات میں لوگ کیا کرینگے ؟ایسا لگتا ہے کہ انتظامیہ کا کوئی وجود ہی نہیں ہے ۔لوگ بار بار پوچھتے ہیں کہ حکومت جن اشیا کے دام مقرر کرتی ہے تو عوام وہ دام یا قیمتیں ادا کرنے کے پابند ہوتے ہیں اور اس کا جواز بھی ہوتا ہے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ سبزی اور میوہ فروشوں کے علاوہ قصاب از خود قیمتیں مقرر کرتے ہیں اور ان کی جرات دیکھئے کہ ڈنکے کی چوٹ پر لوگوں سے وہ دام وصول کرتے ہیں ۔ نہ پولیس ،نہ محکمہ امور صارفین اور نہ ہی میونسپلٹی والے ان کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو قیمتوں میں اس قدر بے اعتدالی نہیں ہوتی جتنی آج دیکھنے کو ملتی ہے۔ جہاں تک قصابوں ،سبزی فروشوں اور میوہ فروشوں کا تعلق ہے ان کو بھی جائیز منافع کمانا چاہئے ۔ یہ لوگ بھی روزی روٹی کمانے کےلئے گھروں سے نکلتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ من مانی قیمتیں لگا کر لوگوں کی جیبیں خالی کرینگے ۔عام لوگوں کا کہنا ہے کہ جس طرح قیمتوں کے تعین میں اب حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا ہے اس سے لگتا ہے کہ انتظامیہ نے ناجائز منافع خوری کرنے والوں کے سامنے سرنڈر کیا ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں