آپسی بھائی چارے کی مشعل کوفروزاں رکھاجائے

 کشمیری عوام نے ہمیشہ روائیتی بھائی چارے کی مشعل کو فروزاں رکھا اور اب بھی کشمیری عوام کوئی ایسا قدم نہیں اٹھا سکتے ہیں جس سے روائیتی بھائی چارے میں کسی بھی طرح کا خلل پڑ سکے ۔ سانحہ سمبل کے بارے میں سب کی متفقہ رائے ہے کہ مجرم کو سر عام پھانسی پر لٹکایا جائے تاکہ لوگ عبرت حاصل کرسکیں۔ جس معصوم بچی کے ساتھ اس طرح کا گھنائونا کھیل کھیلا گیا وہ ہم سب کی لخت جگر ہے اور اس میں دو رائیں نہیں ہو سکتی ہیں کہ یہ درد سب کا ہے کسی ایک کا نہیں۔ کشمیری عوام نے اس سانحہ کےخلاف زبردست احتجاج کرتے ہوئے اس معصوم بچی کے والدین اور دوسرے افراد خانہ پریہ بات واضح کردی کہ یہ درد صرف ان کا ہی نہیں ہے بلکہ اس کی ٹیس ہر کشمیری کے دل و دماغ میں محسوس ہو رہی ہے ۔ وہ اکیلے اس درد کو سہنے کےلئے نہیں ہیں بلکہ پوری کشمیری قوم بلالحاظ مسلک ان کے ساتھ ہیں اور ہر کشمیری اس دکھ درد کو اپنا تصور کرتا ہے لیکن اس دوران بعض شر پسند عناصر اس انسانیت سوز واقعے کی آڑ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ کبھی بھی اپنے مکروہ عزایم میں کامیاب نہیں ہوسکتے ہیں بلکہ ان کے ہتھکنڈوں کو کشمیری عوام ناکام بنا کر ہی دم لینگے ۔ گذشتہ دنوں شہر خاص کے کئی علاقوں اور بمنہ وغیرہ میں بعض نا خوشگوار واقعات رونما ہوئے اور دو گروپوں کے درمیاں کچھ غلط فہمیاں پیدا ہوگئیں جن کو موقعے پر ہی سلجھایا گیا۔ اس کے بعد حالات پر سکوں ہوگئے لیکن نہ جانے کیوں ان علاقوں میں امتناعی احکامات صادر کرکے معاملے کو پیچیدہ بنانے کی کوشش کی گئی حالانکہ کچھ ہوا ہی نہیں تھا البتہ بعض عناصر اس موقعے پر ایک ایسا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں تاکہ لوگ اصل مسئلہ بھول کر کسی دوسرے مسلئے میں الجھ کر رہیں لیکن لوگوں نے اس عزم کو دہرایا ہے کہ آپسی بھائی چارے کو ہر قیمت پر بر قرار رکھا جائے گا اور کسی کو بھی اس بات کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے کہ وہ عوام کی توجہ اصل مسلئے سے ہٹا کر ان کو کسی دوسرے مسلئے میں الجھا کر رکھ دے۔ ڈویثرنل کمشنر اور ڈی جی پولیس نے کشمیری عوام کو اس بات کا پہلے ہی یقین دلایا ہے کہ مجرم کو سخت سے سخت سزا دی جائے گی اور پورے واقعے کی شفاف طریقے پر تحقیقات کی جائے گی۔ ریاستی حکومت کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ یہ مسئلہ کوئی سیاسی نوعیت کا نہیں ہے جس میں تاخیر برتی جائے یا غفلت شعاری کا مظاہرہ کیاجائے بلکہ یہ مسئلہ انسانیت کا ہے ایک معصوم کلی کی عزت و آبرو کا ہے ۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مسئلہ پوری کشمیری قوم کا ہے اسلئے لوگوں کی خواہشات کو مد نظر رکھ کرفاسٹ ٹریک کورٹ میں اس کی شنوائی کی جائے اور جتنی جلد ہوسکے ملوث درندے کو سرعام پھانسی پر لٹکا کر عدل و انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں۔ اس کے ساتھ ہی لوگوں اور خاص طور پر نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ کسی کے بہکاوے میں نہ آکر آپسی بھائی چارے اور محبت و اخوت کے رشتوں میں دراڑ ڈالنے کی کسی کو اجازت نہ دیں ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں