سری لنکا میں حکومت کا مسلم مخالف فسادیوں سے سختی سے نمٹنے کا عہد

کولمبو/14مئی/  سری لنکا میں مسلمانوں کے خلاف ہونے والے پرتشدد واقعات کے بعد رات کے اوقات میں لگایا جانے والے کرفیو کو جزوی طور پر ہٹا لیا گیا ہے۔لیکن سری لنکا کی پولیس کا کہنا ہے کہ ملک کے شمال مغربی صوبے میں یہ کرفیو مزید نوٹس تک جاری رہے گا۔ ان تشدد کے واقعات میں مساجد اور مسلمانوں کی دکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے اور انھیں نذر آتش کیا گیا ہے جبکہ ایک مسلمان تیز دھار والے ہتھیار سے ہلاک کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے سینکڑوں فسادیوں کو پسپا کرنے کے لیے متعدد قصبوں میں ہوائی فائرنگ کرنے کے علاوہ اشک آور گیس استعمال کی ہے۔ واضح رہے کہ سری لنکا میں گذشتہ ماہ 22 اپریل کو مسیحی تہوار ایسٹر کے موقع پر اسلام پسند شدت پسندوں نے ہوٹلوں اور گرجا گھروں کو نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجے میں 250 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ان حملوں کے بعد سے سری لنکا میں کشیدگی کا ماحول ہے۔سری لنکا کے پولیس سربراہ چندنا وکرمارتنے نے ٹی پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولیس افسر فسادیوں کے ساتھ پوری قوت سے نمٹیں گے۔ سری لنکا کے وزیراعظم رانیل وکرماسنگھے نے بھی لوگوں سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ تشدد کی وجہ سے گذشتہ ماہ ہونے والے حملوں کی تحقیقات متاثر ہو رہی ہیں۔ سری لنکا کی دوکروڑ 20 لاکھ آبادی میں مسلمان دس فیصد ہیں جبکہ وہاں سنہالا بودھ مذہب کے ماننے والوں کی اکثریت ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں