سمبل واقعے کے تناظر میں شعیہ سنی کارڈی نیشن کمیٹی کا اجلاس- عوام سے اس نازک مرحلے پر صبر و تحمل سے کام لینے کی اپیل اور مجرم کو کڑی سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا

سرینگر/شیعہ سنی کارڈ نیشن کمیٹی کا ایک غیر معمولی اجلاس سرینگر میں منعقد ہوا جس میں سمبل کے علاقہ ترگام ملک پورہ میں پیش آئے اس شرمناک واقعہ جس میں ایک کمسن بچی کو ایک درندہ صفت نوجوان نے اپنی درندگی کا شکار بنایا پر تفصیل کے ساتھ غور و خوض ہوا۔ اجلاس میں مندرجہ ذیل علمائ، مفتیان اور دانشور حضرات نے شرکت کی۔ مولانا مسرور عباس انصاری، مولانا غلام رسول حامی âکاروان اسلامیá، مفتی اعظم ناصر الاسلام، مولانا خورشید احمد قانون گو âحمایت الاسلامá، مولانا غلام رسول نوری âاھلبیت فاونڈیشنá، نمائندہ میرواعظ کشمیر پیر غلام نبی، مولانا سبط محمد شبیر قمیâپیروان ولایتá، مولانا غلام محمد گلزار âمجمع اسلامی کشمیرá، نمائندہ انجمن شرعی شیعیان سید محمد یاسین موسوی، نثار حسین راتھرâتحریک وحدت اسلامیá، سجاد حسین گل âٹریڈیرس اینڈ مینوفیکچرسá، الطاف احمد وانی âسول سوسائٹیá، آغا سید یوسف رضوی اور دیگر ان۔ اجلاس میں اتفاق رائے سے مندرجہ ذیل قرارداد پاس کی گئی۔ یہ اجلاس ملک پورہ سمبل میں پیش آئے شرمناک واقعہ کی پر زور الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور واضح کرنا چاہتا ہے کہ متاثرہ بچی پوری کشمیری قوم کی بیٹی ہے اور اس اذیت ناک واقعہ پر ہر کشمیری غمزدہ ہے اور متاثرہ خاندان کے ساتھ بھر پور یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔ یہ اجلاس کشمیری عوام سے صبر و تحمل برتنے اور اتحاد و اتفاق سے کام لینے کی اپیل کرتا ہے تاکہ ان عناصر کی سازشوں کو ناکام بنایا جائے جو اس واقعہ کی آڑ میں یہاں مسلکی منافرت کی مذموم فضا قائم کرنا چاہتے ہیں اور یہاں کے خرمن امن کو آگ لگانا چاہتے ہیں۔ یہ اجلاس انتظامیہ اور امن و قانون کے اداروں سے مطالبہ کرتا ہے کہ اس بربریت کی فاسٹ ٹریک بنیادوں پر تحقیقات کرکے اس واقعہ کی شکار معصومہ کو انصاف فراہم کریں اور مجرم کو قرار واقعی اور عبرت ناک سزا دیں۔ یہ اجلاس واضح کرتا ہے کہ انصاف دلانے میں کسی بھی کوتاہی، غفلت اور تاخیر ناقابل برداشت ہے۔ یہ اجلاس متفقہ طور لوگوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اس نازک مرحلے پر صبر و تحمل سے کام لیں اور ریاستی حکام کی ان یقین دہانیوں جن میں انہوں نے اس واقعہ کی پوری تحقیقات کے احکاما ت صادر کئے ہیں پر بھروسہ کریں اور اپنے احتجاج کو ختم کریں اور عبور و مرور کے راستے کھول دیں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں