مودی حکومت کے عزائم وارادے

نریندر مودی نے دوسری مرتبہ وزارت اعظمیٰ کا عہدہ سنبھالا اور یہ عہدہ سنبھالنے سے پہلے انہوں نے کہا کہ ایک مضبوط اور مستحکم خارجہ پالیسی اپنائی جائے گی اور اس کے ساتھ ہی روزگار کے نئے نئے وسایل تلاش کرنے کے علاوہ مہنگائی کو کم کرنے کےلئے مثبت اقدامات اٹھائے جائینگے۔ انہوں نے لوگوں کو اس بات کا یقین دلایا کہ ان کے مسایل حل کرنے کی جانب خصوصی توجہ دی جائے گی اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ عوامی شکائیتوں کا ازالہ کم سے کم وقت میں کیا جاسکے۔ وزیر اعظم نے اس کے ساتھ ہی کہا کہ کشمیر میں تعمیر و ترقی کو یقینی بنانا ان کا خواب ہے ۔ انہوں نے کہا تاہم ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث افراد کی سرگرمیوں کو کسی بھی صورت میں بر داشت نہیں کیاجائے گا۔ اور جو لوگ بے ظابطگیوں میں ملوث ہونگے خواہ ان کا رتبہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو کےخلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت اپنے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ بہتر تعلقات قایم کرنے کا متمنی ہے۔ نریندر مودی نے یہ سب کچھ اپنی پارٹی کے رہنمائوں کے ساتھ غیر رسمی بات چیت کے دوران بتائی۔ جہاں تک مودی کا تعلق ہے تو انہوں نے حالیہ انتخابات میں ایسی کامیابی حاصل کرلی جو بھارت کی تاریخ میں یادگار بن جائے گی۔ کیوںکہ آج تک ایک ہی پارٹی کو اتنے ووٹ حاصل نہیں ہوسکے بہرحال بھاجپا کو بھارت کے عوام نے بھر پور اعتماد دیا اور اس پارٹی پر بھروسہ کرکے نریندر مودی اور ان کی ٹیم کو مسند اقتدار پر بٹھادیا۔ مودی جی نے عہدہ کا حلف لینے سے قبل اپنی پارٹی ممبران کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے بعض اہم باتیں بتائیں جو ملک کی معشیت ،تعمیر و ترقی اور خارجہ پالیسی کے تعلق کے حوالے سے غیر معمولی نوعیت کی قرار دی جاسکتی ہیں۔ اور اگر حکومت ان ہی لائینوں پر کام کرے گی تو اس کی مقبولیت میں نہ صرف اور زیادہ اضافہ ہوگا بلکہ اس کے کام کرنے کے ڈھنگ کو سراہا جائے گا۔ ملک کی معاشی حالت، خارجہ پالیسی اور روزگار کےلئے وسایل تلاش کرنے کے علاوہ مودی کے سامنے کشمیر بھی ایک اہم مسلہ ہے یعنی کشمیر کے بارے میں مودی کو ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا چاہئے۔ اور جیسا کہ ظاہر ہے کہ انہوں نے کشمیر کے بارے میں اب تک جو کچھ کہا ہے وہ وزیر اعظم کی مثبت سوچ کی عکاسی ہے کیونکہ یہاں بے ظابطگیاں کی گئی ہیں اور حقدار کو ان کے حقوق سے محروم کردیا گیا ہے ۔اگر لوگوں کو انصاف ملے گا تو اس سے بہتر اور کیا ہوسکتا ہے ۔حقدار کو اس کا حق ملے گا تو اس سے بہتر اور کیا چیز ہوسکتی ہے۔ ریاست میں روزگار کا مسئلہ سب سے زیادہ ہے اس کے ساتھ ہی کاروبار بھی ٹھپ پڑا ہے کیوںکہ سیاحت کے حوالے سے یہاں اس سال بہت کم تعداد میں سیاح سیر کو آئے جس کی وجہ وادی کے بارے میں الیکٹرانک میڈیا کا منفی پروپا گنڈا ہے۔ کیوںکہ جو لوگ اس پروپاگندا کو سنتے او ردیکھتے ہیں تو ان کے دلوں میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ جان جوکھم میں ڈال کر کیوں کشمیر کی سیاحت پر آینگے۔ اسلئے مرکز میں نئی حکومت کو اس بارے میں خصوصی اقدامات اٹھانے ہونگے تاکہ الیکٹرانک میڈیا کے اس غلط اور منفی پر و پاگنڈے کا توڑ ہوسکے اور موجودہ حکومت کے سوا اور کوئی بھی حکومت ایسا نہیں کرسکتی ہے کیوں کہ اس حکومت کو پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل ہے اسلئے یہ کوئی بھی مسلہ حل کرسکتی ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں