حدبندی سے متعلق قیاس آرائیاں

ان اطلاعات کے بعد جن میں بتایا گیا کہ موجودہ مرکزی حکومت ریاست میں اسمبلی حلقوں کی سرنو حد بندی کا منصوبہ بنارہی ہے پر عوامی حلقوں میں مختلف نوعیت کی قیاس آرائیا ں کی جارہی ہیں ۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس بارے میں زور زبردستی نہیں کی جانی چاہئے۔ مختلف مین سٹریم لیڈروں نے بھی اس پر شدید ردعمل کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کو کوئی ایسا قدم اٹھانے سے پہلے اس کے نتایج پر غور کرنا چاہئے۔ لیکن اس دوران مرکزی حکومت نے یہ بات صاف کردی کہ ابھی ایسا کوئی بھی فیصلہ مرکز کے زیر غور نہیں ہے لیکن ایک خبر رساں ایجنسی نے مرکزی وزارت داخلہ کے ذرایع کے حوالے سے بتایا کہ مرکزی حکومت جموں خطے میں اسمبلی حلقوں کی سرنو حد بندی پر غور کررہی ہے اور اس بارے میں مناسب وقت پر اعلان کیاجائے گا۔ قانونی ماہرین نے بھی اس پر شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ اس منصوبے کا مقصد بقول ان کے آنے والے اسمبلی انتخابات میں جموں خطے کے اندر بی جے پی کےلئے مزید نشستیں حاصل کرنا ہے۔ جانکار حلقوںکا کہنا ہے کہ بھاجپا جموں خطے میں اپنی پوزیشن مضبوط بنانے اور اسمبلی انتخابات کے دوران واضح اکثریت حاصل کرنے کی خاطر جموں خطے میں موجودہ اسمبلی حدبندیوں کو تبدیل کرنے والی ہے۔ بہرحال ابھی تک اس بارے میں وثوق سے کچھ نہیں کہاجاسکتا ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ بھاجپا اس مسلئے پرکو ئی ایسا قانونی راستہ تلاش کررہی ہوگی جس سے اس پارٹی کو اپنے مقصد میں کامیابی حاصل ہوسکتی ہے۔ ایک موقر خبر رساں ایجنسی کے مطابق اس بات کے بھی امکانات ہیں کہ مرکزی حکومت مستقبل قریب میں ایک حد بندی کمیشن قایم کرکے اسے ریاست کے جموں خطے میں اسمبلی حلقوں کی نئے سرے سے حد بندی کا کام سونپ دے۔ ریاست میں حد بندی کے حوالے سے سال 2002میں نیشنل کانفرنس نے جس کے صدرڈاکٹر فاروق عبداللہ ہیں کی قیادت میں ریاستی حکومت نے ریاست کے آئین میں ترمیم کرے سال 2026تک حد بندی کے عمل پر منصوبے سے حکم امتناع لایا تھا۔ اس دوران پینتھرس پارٹی کے بھیم سنگھ نے اس کو عدالت عالیہ میں چلینج کیا تھا اور بات سپریم کورٹ تک بھی پہنچی تھی لیکن دونوں عدالتوں نے بھیم سنگھ کی عرضی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی حلقوں کی حدبندی کا معاملہ انتظامی نوعیت کا ہے اور اس میں عدالتوں کا کوئی رول ہے ہی نہیں۔ قارئین کرام کو یاد دلائیں کہ جموں کشمیر اسمبلی میں کل نشستوں کی تعداد ایک سو گیارہ ہے لیکن چوبیس نشستوں کو خالی رکھا گیاہے۔ ریاستی آئین کے سیکشن 47کے مطابق ان 24نشستوں کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کےلئے خالی رکھا جارہا ہے۔ جبکہ باقی ماندہ 87نشستوں پر ہی انتخابات ہوتے ہیں۔ اس دوران اگر مرکزی حکومت نے حد بندی کمیشن کے قیام کے سلسلے میں دوڑ دھوپ شروع کردی تو یقینا معاملہ کورٹ کچہری تک پہنچ سکتا ہے کیوںکہ عمر عبداللہ نے مرکز کے اس امکانی اقدام پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کے احکامات کو کسی بھی صورت میں رد یا اس میں کسی بھی طرح کی ترمیم یا تبدیلی کےخلاف بقول ان کے مزاحمت کی جائے گی۔ آگے کیا ہوگا مرکزی سرکار اس بارے میں کیا فیصلہ کرے گی فی الحال اس کا انتظار کرنا پڑے گا ۔ ادھر الیکشن کمیشن نے بھی اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ فوری طور پر انتخابات عمل میں لانے کا اس کا کوئی پروگرام نہیں ہے۔ اسلئے ہر مکتب فکر کو اب اس حوالے سے مرکزی حکومت کے اقدامات کا انتظار رہے گا کہ اس نے حدبندی کمیشن کے قیام اور اسمبلی حلقوں کی موجودہ ہیت میں تبدیلی کے حوالے سے کی جانے والی قیاس آرائیوں کے بارے میں جو انکار کیا وہ سچ ہے یا نہیں ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں