جنوبی ایشیائی خطے میں امن کی ضرورت

موجودہ حالات میں جنوب ایشائی ممالک میں اس وقت امن کی سب سے زیادہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے کیوںکہ سری لنکا میں جو حملے ہوئے اس سے آس پاس کے ممالک میں خوف و ہراس پھیل گیا ۔ اگرچہ اس وقت پوری دنیا اس طرح کے حملوں سے خوفزدہ ہے لیکن جنوب ایشائی ممالک کچھ زیادہ ہی ڈر محسوس کرنے لگے ہیں۔ کیوںکہ جیسا کہ بار بار کہاجاچکا ہے کہ دہشت گردکا کوئی مذہب نہیں ہوتا ہے اسلئے ان واقعات کو کسی خاص مذہب یا ملک سے جوڑنا کسی بھی طور درست قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔ امن سب سے بہتر ہے اور اس کا کوئی متبادل نہیں ہوسکتا ہے ۔ اس وقت بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی مختلف ایشائی ملکوں کے دورے پر ہیں اور انہوں نے سری لنکا کے بعد مالدیپ کا دورہ کیا ۔ وزیر اعظم کا یہ دورہ اس لحاظ سے اہم اور غیر معمولی اہمیت کا حامل قرار دیا جاسکتا ہے کیوںکہ حال ہی میں سری لنکا میں زبردست خود کش حملے ہوئے جن میں کئی سو لوگ مارے گئے اس سے قبل نیوزی لینڈ میں ایک بدبخت نے نماز جمعہ کی ادائیگی کےلئے دو مساجد میں جمع ہونے والے نمازیوں پر گولیاں چلائیں جس سے تقریباًپچاس نمازی جاں بحق ہوئے ۔ ان دہشت گردانہ واقعات کے بعد وزیر اعظم کے بیرون ملک دوروں کا مقصد یہی ہوسکتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح جنوب ایشائی ملکوں میں قیام امن کی کوششوں کو تقویت دی جائے ۔ چنانچہ ان کوششوں میں بھارت کس حد تک کامیاب ہوسکتا ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن اتنا ضرور ہے کہ وزیر اعظم بھارت کی ان کوششوں کو سراہا جارہا ہے ۔ اس دوران پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارت میں اپنے ہم منصبوں کو الگ الگ تہنیتی مکتوبات میں جہاں ان کو نئے عہدے سنبھالنے پر مبارکباد دی ہے وہیں ان کو بتایا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تمام تصفیہ طلب مسایل پر بات چیت کرناچاہتا ہے اسلئے بھارت کو پاکستان کی اس پیشکش کا مثبت جواب دینا چاہئے تاکہ یہ خطہ امن کا گہوارا بن جائے گا ورنہ آج کل دیکھا جارہا ہے کہ دنیا کے وہ تمام ممالک جواس وقت جنگ و جدل کی وجہ سے تباہ و برباد ہورہے ہیں جو کبھی اپنی جاہ و حشمت، تعمیر و ترقی اور خوشحالی کےلئے مشہور تھے جن میں عراق، لیبیا، شام اور یمن وغیر ہ شامل ہیں۔ جب ان ممالک کی طرف دیکھا جارہا ہے تو ہر طرف تباہی اور بربادی نظر آرہی ہے اسلئے وزیر اعظم مودی نے جو امن مشن شروع کیا ہے اس کی ہر طرف نہ صرف سراہنا کی جارہی ہے بلکہ یہ وقت کی آواز ہے اور جو وقت کی آواز کو نظر انداز کرتا ہے تباہی، بربادی، بھوک اور افلاس اس کا مقدر بن جاتی ہے اسلئے بھارت اور پاکستان دونوں ملکوں کو چاہئے کہ برصغیر کے کروڑوں لوگوں کی فلاح و بہبود کی خاطر مخاصمت کا راستہ ترک کرکے مفاہمت کی راہ اپنائیں تاکہ جنوب ایشائی خطہ امن، شانتی، صلح و صفائی کا گہوارہ بن کر پوری دنیا کےلئے ایک مثال بن کر رہ جائے۔ اس وقت امن کی سخت ضرورت ہے اور امن اسی صورت میں ممکن ہے جب بات چیت کا راستہ اختیار کیاجائے اور مزاحمت سے دوری بنائی رکھی جائے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں