سینچائی کیلئے پانی کی عدم دستیابی

وادی میں بچی کھچی زرعی اراضی پر اس وقت دھان کی پنیری لگانے کا کام شروع ہورہا ہے جو 21جون تک جاری رہے گا۔ پنیری لگانے اور اس کے فوراًبعد سنچائی کےلئے پانی کی اشد ضرورت ہوتی ہے لیکن مختلف قصبہ جات اور دیہات سے موصولہ اطلاعات کے مطابق سینچائی کیلئے پانی دستیاب ہی نہیں ہے جس کی بنائ پر زمینداروں میں فکر و تشویش بڑھتی جارہی ہے اور وہ خاصے فکر مند نظر آرہے ہیں۔ زمینداروں کا کہنا ہے کہ ابھی تک ایسی درجنوں کوہلیں ہیں جن کی صفائی تک نہیں کی گئی جبکہ اس معاملے میں بقول ان کے متعلقہ حکام نے بے پناہ غفلت شعاری کا مظاہرہ کیا ہے۔ خاص طور پر شمالی اور جنوبی کشمیر میں زمیندار انتہائی پریشان کن صورتحال سے دوچار ہونے لگے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اس وقت زرعی مقاصد کےلئے جو اراضی دستیاب ہے وہ آج سے دس برسوں کے مقابلے میں بہت کم ہے کیوںکہ لوگوں نے اب زرعی اراضی پر تعمیرات کھڑی کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے ان حالات میں اب بھی متعلقہ حکام بھر پور مقدار میں فصلوں کی سینچائی کےلئے پانی کی فراہمی یقینی نہیں بناپارہے ہیں جس کی وجوہات کا پتہ نہیں چل رہا ہے۔ زمیندار جیسا کہ اوپر ذکر کیاگیا ہے سوچ رہے ہیں کہ ان کو کیاکرنا ہے کیوںکہ اس وقت آبپاشی کوہلوں کی تعمیر و تجدیداور صفائی وغیرہ کا کام مکمل ہونا چاہئے تھا لیکن متعلقہ حکام خواب خرگوش میں ہیں اور اپنے فرایض کے تئیں ان کی غفلت شعاری سے فصلوں پر منفی اثرات مرتب ہونے کے امکانات ہیں۔ اس وقت متعلقہ حکام پانی کی کمی کا بہانہ نہیں کرسکتے ہیں کیوںکہ سرمائی ایام میں برفباری حد سے زیادہ ہوئی جبکہ بارشیں بھی بہت ہوئیں۔ دریا اور ندی نالے پانی سے لبالب بھرے ہوئے ہیں۔ پہاڑوں کی چوٹیاں اب بھی برف سے ڈھکی ہوئی نظر آرہی ہیں اسلئے پینے یا آبپاشی کےلئے پانی کی کمی کا بہانہ نہیں چل سکتا ہے اور نہ ہی پانی کی کمی ہے لیکن مسئلہ صرف یہ ہے کہ آبپاشی سکیموں کی دیکھ ریکھ میں بڑے پیمانے پر غفلت برتی جارہی ہے جس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ اگر صورتحال میں کوئی فوری تبدیلی نہیں لائی گئی تو پنیری لگانے کا وقت نکل جائے گا اور زمیندار لوگ ہاتھ ملتے رہ جائینگے۔ انہوں نے ایسی بہت سی کوہلوں کی نشاندہی کی ہے جن کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ ان کی صفائی تک نہیں کی گئی اور اگر صورتحال ایسی ہی رہی تو زمیندار پنیری نہیں لگا سکتے ہیں۔ ادھر میوہ باغ مالکان نے بھی درختوں پر چھڑکنے والی ادویات کے معیار کے بارے میں خدشات ظاہرکئے اور کہا کہ بعض ادویات انتہائی غیر معیاری ثابت ہورہی ہےں انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ متعلقہ حکام کے نوٹس میں لانے کے باوجود بھی ان ڈیلروں کےخلاف کوئی کاروائی نہیں کی جارہی ہے جو اس طرح کا دھندا کرکے میوہ باغ مالکان کو عمر بھر کےلئے کنگال بنانے کا کام کرتے ہیں۔ فرووٹ گروورس کے مطابق جب ایک بار کسی درخت پر غیر معیاری دوائی کا چھڑکائو کیاجاتا ہے تو پھر اس کے بعد اس درخت پر جو میوہ اگتا ہے وہ بھی اعلی قسم کا نہیں ہوتا ہے بلکہ وہ اکثر داغدار ہوتا ہے جوکھانے کے قابل نہیں رہتا ہے اسلئے متعلقہ حکام کو فرووٹ گروورس کی شکایات کا نوٹس لے کر ان ڈیلروں کےخلاف سخت کاروائی کرنی چاہئے جو غیر معیاری ادویات کا دھندا کرکے کشمیری میوے کے معیار کو گرانے کے مرتکب ہورہے ہیں ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں