فرقہ وارانہ بھائی چارے کا بے مثال مظاہرہ

سوموار 10 جون کو کھیر بھوانی تولہ مولہ میں میلے کے دوران دن بھر فرقہ وارانہ بھائی چارے کے مناظر دیکھنے کو ملے۔ صبح سویرے سے ہی شر دھالو مند ر پہنچنا شروع ہوگئے تھے جن میں زیادہ وہ کشمیری پنڈت شامل تھے جو نوے کی دہائی کے ابتدائی ایام میں یہاں سے نکل کر جموں ،دہلی اور ملک کی دوسری ریاستوں میں رہایش پذیر ہوگئے۔ ان کی مند ر میں آمد سے پہلے ہی مقامی مسلم آبادی وہاں جمع ہوگئی جنہوں نے بڑے بڑے بینر لگائے تھے اور جو بے صبری سے اپنے پنڈت بھائیوں کا استقبال کرنے کےلئے وہاں موجود تھے۔ جوں ہی کشمیری پنڈت وہاں پہنچنا شروع ہوگئے مقامی لوگ جو سب کے سب مسلمان ہیں نے ان پنڈتوں کو گلے لگایا اور اس وقت وہاں رقعت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے جب دونوں زارو قطار رو رہے تھے اور ان دنوں کو یاد کر رہے تھے جب یہاں پنڈت اورمسلمان امن و سکون اور بھائی چارے کی فضا ئ میں رہتے تھے۔ کسی کو یہ معلوم نہیں پڑتا تھا کہ کون کیا ہے کیوں کہ دونوں فرقے ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں برابر برابر کے شریک ہوتے تھے۔ عید آتی تھی تو پنڈت بھی عید کی خوشیاں اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ مل کر مناتے تھے اور شوراتری بھی دونوں فرقے پیار و محبت اور عقیدت کے ساتھ مناتے رہے ہیں۔ لیکن وقت کی آندھی نے دونوں کو بظاہر دور کردیا لیکن جسمانی دوریاں کوئی معنی نہیں رکھتی ہیں بلکہ دونوں ایک دوسرے کی یاد میں تڑپتے رہے اور آج موقعہ ملا کہ مسلمانوں نے اپنے پنڈت بھائیوں پر بھر پور پیار نچھاور کردیا ۔کشمیریوں کو ایک دوسرے کے ساتھ محبت، اعتماد اور اعتبار تو ورثے میں ملاہے۔ اگر دنیا میں کہیں روایتی بھائی چارے کا مشاہدہ کرنا ہے تو صرف کشمیر ہی ایسی جگہ ہے جہاں لوگوں کو یہ معلوم ہی نہیں ہوتا ہے کہ کون کس فرقے سے تعلق رکھتا ہے اور کس کی ذات کیا ہے۔ ہم سب مل جل کر رہنے والے لوگ ہیں جو ایک دوسرے کی خوشیاں بانٹتے ہیں اور ایک دوسرے کے غم میں شریک ہوجاتے ہیں۔ اس وقت بھی بعض عناصر اپنے حقیر سیاسی مفادات کےلئے کشمیری مسلمانوں اور پنڈتوں کے درمیان دراڑ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں جس کا مشاہدہ ہم کررہے ہیں لیکن کشمیری عوام کا کہنا ہے کہ ان کے ان مکروہ عزایم کو کسی بھی صورت میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ یہاں حضرت امیر کبیر ؒکی خانقاہ کے ساتھ ہی ایک مندر بھی ہے ۔ ہاری پربت کے ایک طرف سلطان العارفین ؒ کا آستان عالیہ ہے تو دوسری طرف مندر ہے جبکہ اس کے ساتھ ہی گردوارہ ہے ۔ اس سے بڑھ کر سیکولرزم کی مثال اور کیا ہوسکتی ہے۔ ہمارا دین ہم کو ہر ایک کے ساتھ محبت و عقیدت اور عزت سے رہنے کا درس دیتا ہے۔ اسلام میں تشدد، مار دھاڑ اور دوسری قبیح حرکتوں کےلئے کوئی گنجایش نہیں ہے بلکہ اسلام اخوت اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے جس کا مظاہرہ کشمیری مسلمان ہر اس موقعے پر کرتے ہیں جب یہاں کشمیری پنڈت موجود ہوتے ہیں اسلئے سب کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ کشمیری ایک ہیں اور ان کو ایک دوسرے سے کوئی الگ یا جدا نہیں کرسکتا ہے۔ اسلئے جو لوگ اپنے حقیر مفادات کےلئے آپس میں نفرت، عداوت، بغض اور عناد کے بیج بوتے ہیں ان کو ہر صورت میں ناکام بنانے کی ضرورت ہے تاکہ کشمیر پھر سے امن و سکون کا گہوارا بن کر رہ جائے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں