آئی سی سی نیٹ رن ریٹ کے قوانین پر نظر ثانی کرے،  باہر ہونے کے باوجود میزبان انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کو ہرانا ہمارے لئے تسلی بخش رہا:مکی آرتھر

لندن/یو این آئی / بنگلہ دیش کو عالمی کپ کے اپنے آخری میچ میں شکست دینے کے باوجود نیٹ رن ریٹ کی بنیاد پر سیمی فائنل میں پہنچنے میں ناکام رہنے کے بعد پاکستانی ٹیم کے کوچ مکی آرتھر نے بین الاقوامی کرکٹ کونسل âآئی سی سیá سے نیٹ رن ریٹ کے قوانین پر نظر ثانی کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔پاکستان اور نیوزی لینڈ دونوں ہی ٹیموں کے نو میچوں میں پانچ جیت، تین ہار اور ایک منسوخ میچ کے ساتھ 11پوائنٹس رہے لیکن نیوزی لینڈ کا نیٹ رن ریٹ پاکستان کے مقابلے اچھا ہونے کے سبب وہ پوائنٹس ٹیبل میں چوتھے نمبر پر رہ کر سیمی فائنل میں جگہ بنانے میں کامیاب رہا ہے جبکہ پاکستان پانچویں نمبر پر رہا اور اس کا عالمی کپ میں سفر ختم ہو گیا۔آرتھر نے کہاکہ میں آئی سی سی سے نیٹ رن ریٹ کے قوانین پر نظر ثانی کرنے کی اپیل کرتا ہوں کیونکہ یکساں پوائنٹس ہونے کے باوجود ہمارا سیمی فائنل میں نہیں پہنچنا بدقسمتی کی بات ہے اور یہ صرف ویسٹ انڈیز کے خلاف ہماری خراب کارکردگی کی وجہ سے ہی ہوا ہے ۔ ہم آسٹریلیا کو ہرا سکتے تھے لیکن ایسا کر پانے میں ناکام رہے ۔غور طلب ہے کہ پاکستان کو سیمی فائنل میں پہنچنے کے لئے 350کا اسکور بنانا تھا اور بنگلہ دیش کو 311رنز سے ہرانا تھا۔ لیکن پاکستان کی ٹیم 315رن ہی بنا سکی اور بنگلہ دیش کے سات رن بناتے ہی وہ عالمی کپ سے باہر ہو گئی۔آرتھر نے کہاکہ صرف ایک خراب کھیل کے بعد ہمارا نیٹ رن ریٹ اتنا خراب ہو گیا۔ ہم نے اچھی کارکردگی کرکے واپسی کی کوشش کی اور اس کی وجہ سے ٹیم میں سب اس بات سے ناخوش ہیں کہ وہ سیمی فائنل میں نہیں پہنچ سکے ۔ میں ٹیم کے کھلاڑیوں کو مبارکباد نہیں دوں گا کیونکہ ہم ٹاپ 4 میں نہیں پہنچ سکے ہیں۔ اگرچہ جو ٹیمیں سیمی فائنل میں پہنچی ہیں ان کو مبارک باد ، امید ہے بہتر ٹیم یہ خطاب جیتے گی۔انہوں نے کہاکہ باہر ہونے کے باوجود میزبان انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کو ہرانا ہمارے لئے تسلی بخش رہا۔ ہم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 400 رنز کا ہدف دینے کے بارے میں بات کی تھی لیکن پہلے 10 اوور امید کے مطابق نہیں رہے ۔ 400 رن کے لئے ٹیم کو آگے بڑھ کر کھیلنا ہوتا ہے ۔آرتھر نے کہاکہ جب فخر زمان آؤٹ ہو کر ڈریسنگ روم میں آئے تو انہوں نے کہا کہ پچ سست ہے ۔ اس کے بعد ہم نے سمجھا کہ 270 رن اوسط اسکور ہو گا اور 400 تک پہنچنا ناممکن ہے اور ہم نے محسوس کیا کہ ہم اس میچ کو جیتنے کی کوشش ہی کر سکتے ہیں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں