کشمیری عوام اور یاترا

ریاست کے گورنر ستیہ پال ملک نے کل پانتہ چھوک میں قایم ٹرانزٹ کیمپ کا دورہ کیا اور امر ناتھ یاتریوں کو دی جانے والی سہولیات کا جایزہ لیا۔ انہوں نے اس موقعے پر کہا کہ مقامی لوگوں کی مدد سے انتظامیہ امرناتھ یاتریوں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کررہی ہے جس کی موقعے پر موجود یاتریوں نے سراہنا کی۔ اس سے قبل گورنر نے ایک تقریب پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ امرناتھ یاترا کو کامیاب بنانے میں مقامی مسلمانوں کا ہاتھ بھی شامل ہے اور وہ یاترا کو کامیاب بنانے میں اپنا رول بخوبی نبھارہے ہیں۔ گورنر صاحب بار بار یاترا سے جڑے معاملات پر مقامی لوگوں کاذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کی عملی مدد و اعانت سے یاترا رواں دواں ہے۔ گورنر کے اس مثبت بیان پر لوگ خوش ہیں لیکن ایک بات کشمیری عوام میں اس وقت موضوع بحث بنی ہوئی ہے کہ حکمرانوں کی طرف سے اس وقت کیونکر جنگی ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور جو کوئی بھی بات کررہا ہے صرف اتنا کہہ رہا ہے کہ یاتریوں کےلئے بھر پور سیکورٹی انتظامات کئے گئے ہیں اور اس بارے میں زبردست پر وپاگنڈا کیا جارہا ہے کہ چپے چپے پر فورسز کا جال بچھایا گیا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ گذشتہ تیس برسوں میں کبھی بھی یاتریوں پر حملہ نہیں کیا گیابلکہ یاتریوں کےلئے سیکورٹی کی آڑ میں ایسا تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے جیسے یاتریوں کےلئے یہاں یاترا کسی بڑی مصیبت کو دعوت دینے کے مترادف ہے ۔ باہر سے جو یاتری آتے ہیں وہ ہمارے مہمان ہیں اور مہمانوں کی حفاظت کرنا کشمیری عوام کافرض کام ہے۔ اب جبکہ احتیاطی تدابیر کے تحت حکومت نے فورسز کو بھی تعینات کیا ہے تو صرف بار بار سیکورٹی کی مالا کیوں جپی جارہی ہے ۔ یاتری اپنے عقیدے کے مطابق یہاں آکر گھپا کے درشن کرکے چلے جاتے ہیں اس میں نہ سیاست کرنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی یہ سیکورٹی سے جڑا کوئی مسئلہ ہے ۔کشمیری عوام یاتریوں کی دل سے عزت کرتے ہیں اور ان کا قدم قدم پر خیر مقدم کرتے ہیں۔ نوے کی دہائی میں جب یہاں ملی ٹینسی عروج پر تھی تب بھی یاترا پر سکون طریقے پر انجام دی جاتی تھی اور آج بھی یاترا جوش و خروش سے جاری ہے اس میں جنگی ماحول پیدا کرنے سے بیرون ریاست لوگوں میںایسے خدشات پیدا ہوتے ہیں جیسے یاتریوں کو یہاں زبردست خطرات لاحق ہیں ۔ سال 2008میں جب یہاں شرائین بورڈ ایجی ٹیشن جاری تھی اس وقت بھی لوگوں نے یاتریوں کو سر آنکھوں پر بٹھایا اور ان کو اپنے گھروں میں پناہ دی جبکہ آج بھی لوگ وہی جذبات رکھتے ہیں۔ کشمیری عوام نے ہمیشہ یاتریوں کےلئے دل کے دروازے کھول کر رکھ دئے ہیں ۔ کشمیری عوام کے ان جذبات کی قدر کرنی چاہئے اور یاترا کے معاملے میں صرف سیکورٹی سیکورٹی کی رٹ لگانے سے احتراز کیا جانا چاہئے۔ یاترا خوش اسلوبی سے رواں دواں ہے اور آیندہ بھی خوش اسلوبی سے ہی جاری رہے گی ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں