شہر میں صرف ایک ہفتے کے دوران نصف درجن چناروں کا صفایا، سول سوسائٹی اور عام لوگ سراپا احتجاج ،گورنر سے فوری مداخلت کی اپیل

سرینگر/گذشتہ ایک ہفتے کے دوران شہر میں تین بڑے چناروں کو کاٹنے پر سول سوسائٹی کے علاوہ عام لوگوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ ایک سازش کے تحت وادی میں چناروں کا صفایا کیا جارہا ہے ۔اس سلسلے میں سول سوسائٹی سے وابستہ شہریوں نے آفتاب کو بتایا کہ پر تاپ پارک میں دو سرسبز چنار کے دوختوں کو بلا جواز کاٹا گیا جس سے اس پارک کی خوبصورتی ماند پڑ گئی ۔انہوں نے کہا کہ اس سے قبل لال بازار میں سلفیہ چوک میں ایک اور بڑے چنار کے درخت کو کاٹا گیا اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو اگلے دس بیس برسوں کے دوران وادی میں چناروں کا نام و نشان تک مٹ جاے گا ۔سول سوسائٹی سے وابستہ معززین شہر کا کہنا ہے کہ وادی میں جنگلوں کے بعد اب جس رفتار سے چناروں کا صفایا شروع کیا گیا وہ انتہائی تشویشناک معاملہ بنتا جارہا ہے اور یہ بقول ان کے ایک گہری سازش کا حصہ معلوم ہوتا ہے کیوںکہ چنار کشمیر کی شان ہے اور یہ کشمیریت کی پہچان ہے ۔یہ پوچھے جانے پر کہ جو لوگ ان چناروں کو کاٹتے ہیں وہ اس کے لئے یہ جواز بتاتے ہیں کہ درخت سوکھ گئے تھے لیکن انہوں نے کہا کہ سب کچھ غلط اور بے بنیاد ہے جبکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ بقول ان کے ان درختوں کی جڑوں پر مخصوص قسم کا کمیکل ڈالا جاتا ہے جس سے یہ سوکھ جاتے ہیں اور اسی کو بنیاد بنا کر ان چناروں کو کاٹا جاتا ہے سول سوسائیٹی نے گورنر سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سارے معاملے کی تحقیقات کے احکامات صادر کریں اور دیکھیں کہ کسطرح وادی میں سرسبز چناروں کا صفایا کیا جارہا ہے ۔سول سوسائیٹی کی طرف سے اس بارے میں گورنر کو عنقریب میمورنڈم پیش کیاجارہا ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں