URL_Popup میرواعظ منزل پر منشیات کی پھیلتی وبائ پر مشاورتی اجلاس، تقریب میں اسلامی اسکالروں، سیول  سوسائٹی ممبران اور غیر سرکاری رضاکار تنظیموں کی شرکت

میرواعظ منزل پر منشیات کی پھیلتی وبائ پر مشاورتی اجلاس، تقریب میں اسلامی اسکالروں، سیول  سوسائٹی ممبران اور غیر سرکاری رضاکار تنظیموں کی شرکت

سرینگر/متحدہ مجلس علمائ کے سرکردہ علمائے کرام ، مفتیان عظام ، انسداد منشیات پر کام کررہے ماہرین،ڈاکٹرس ، کئی غیر سرکاری تنظیموں این جی اوز سے وابستہ افراد کا ایک غیر معمولی اجلاس تاریخی میرواعظ منزل راجوری کدل سرینگر پر منعقد ہوا۔اجلاس کی صدارت مجلس علمائ کے امیر اعلیٰ میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے انجام دی۔واضح رہے کہ یہ اجلاس جموںوکشمیر میں منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے انسداد تدابیر اور مسلم خواتین کو درپیش کئی سنگین نوعیت کے مسائل جن میں ان کو حق وراثت سے محروم رکھنا، گھریلو تشددکا شکار بنانے جیسے معاملات کے تناظر میں طلب کیا گیا تھا۔اپنے افتتاحی خطاب میں میرواعظ نے کشمیر میں منشیات کی بڑھتی ہوئی لعنت خاص طور پر نوجوان نسل کا اس میں بری طرح سے ملوث ہو جانے پر گہری فکر و تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب ہاتھ پر ہاتھ دھرے رہنے کا وقت نہیں رہابلکہ من حیث القوم یہ ہم سب کیلئے ایک Challenging Situationہے اور اس کے سد باب کیلئے ہم کو اجتماعی طور پر اپنی کوششوںکو بروئے کار لانا ہوگا۔میرواعظ نے کہا کہ یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ دین اسلام کے واضح احکامات کے باوجود کشمیر میں مسلم خواتین کو ان کے جائز حقوق کے حوالے سے شدید مشکلات سے دوچار کیا جارہا ہے خصوصاً ان کو اپنے والدین کی جائز حق وراثت سے محرومی اور گھریلو تشدد اور جہیز جیسی بدعات کے ذریعے ان کے حقوق کو سلب کرنے کا رحجان برابر جاری ہے اور یہ علمائے کرام، دینی تنظیموں ...... کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس حوالے سے عوام میں آگاہی اور بیداری پیدا کرنے کی کوشش کریںاور اس سنگین مسئلہ پر قابو پانے کیلئے رہنمائی کا فریضہ انجام دیں۔میرواعظ نے کہا کہ ان ہی دو سنگین نوعیت کے مسائل پر آپ حضرات کو زحمت دی گئی ہے اور مجھے امید ہے کہ آ پ ان مسائل کے حل کے حوالے سے اپنی آرا کے ساتھ ساتھ عملی اقدامات اٹھانے کے حوالے سے بھی ایک مثبت لائحہ عمل ترتیب دینے میں اپنا تعاون فراہم کریں گے۔میرواعظ نے تمام مقررین کی آرا سن کر منشیات کے استعمال کی روک تھام اور خواتین کو درپیش مسائل سے نمٹنے کیلئے الگ الگ دو کمیٹیاں تشکیل دینے کی تجویز رکھی تاکہ سماج کو درپیش ان مسائل کا سدباب کیا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ بحیثیت ذمہ داری شہری سماجی مسائل کی طرف توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم ان مسائل پر سیر حاصل بحث کر سکتے ہیں مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ زمینی سطح پر ان مسائل کو حل کرنے کے اقدامات اٹھائے جائیں۔مذکورہ دو کمیٹیاں مختلف تنظیموں سے وابستہ نمائندوں بشمول مذہبی و سماجی تنظیموں پر مشتمل ہونگی۔اس موقعہ پر اپنے خطاب میں مولانا حامی نے کہا کہ ان کی تنظیم گزشتہ سات برسوں سے وادی میں منشیات کی وبا کی روکتھام کیلئے تمام ممکنہ کوششیں کررہی ہے۔ مختلف سرکاروں کی کارکردگی کو آڑت ہاتھوں لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان سرکاروں نے بازار میں دستیاب نشیلی ادویات کو کنٹرول کرنے میں کوئی موثر کردار ادا نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں میں منشیات کے استعمال کے رحجان میں پچھلے کئی برسوں سے اضافہ دیکھا جارہا ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں