قیمتوں کو اعتدال پر رکھنے کی ضرورت

 ا س سے قبل ان ہی کالموں میں حکام کی توجہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کی طرف مبذول کروائی گئی اور اپیل کی گئی کہ ایک ایسا نظام قایم کیاجائے تاکہ دکانداروں کو از خود قیمتوں کا تعین کرنے کا موقعہ نہ مل سکے۔ آج کل دیکھا جارہا ہے کہ دکاندار ہر چیز کی قیمت خود مقرر کرتے ہیں اس میں وہ کسی بھی سرکاری حکمنامے کو خاطر میں نہیں لاتے ہیں۔ اس سارے معاملے میں قصاب پیش پیش ہیں۔ قیمتوں کے بارے میں یہ لوگ حکام کے سامنے سرکاری نرخناموں پر عمل درآمد کا بھر پور یقین دلاتے ہیں لیکن دکانوں پرپہنچتے ہی ان کی نیت بدل جاتی ہے۔ اس کا اندازہ اس وقت لگایا جاسکتا ہے۔ سرکارکی طرف سے اے کلاس یعنی عمدہ گوشت فی کلو کی قیمت چارسو چالیس روپے مقرر کی گئی ہے لیکن اس قیمت پر کوئی بھی قصاب گوشت نہیں بیچتا ہے بلکہ ہر قصاب پانچ سو روپے میں گوشت فی کلو کے حساب سے فروخت کرتا ہے۔ اور جو قصاب گوشت فروخت کرتے ہیں وہ تھرڈ کلاس اور غیر معیاری ہوتا ہے لیکن ان کو روکنے ٹوکنے والا کوئی نہیں۔ ایک زمانے میں محکمہ امور صارفین کی طرف سے بازاروں کی چکنگ کی جاتی تھی پولیس بھی ان چکنگ سکارڈوں کے ساتھ ہوتی تھی لیکن اب نہ چکنگ سکارڈ اور نہ پولیس کا کہیں نا م و نشان بازاروں میں نظر آتا ہے۔ اس وجہ سے قصاب من مانیوں پر اتر آئے ہیں اور کھلے عام گوشت فی کلو کےلئے سرکاری نرخوں سے ساٹھ روپے زیادہ وصول کرتے ہیں۔ اس سے پورا مارکیٹ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ایک ٹرانسپورٹر نے کہا کہ وہ ہمیشہ سرکاری نرخنامے پر عمل کرتے ہیں حالانکہ بقول اس کے ہر چیز مہنگی ہونے کے باوجود وہ خود گھاٹے میں رہتے ہیں لیکن لوگوں کو کسی بھی قسم کی تکلیف سے دو چار نہیں ہونے دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کبھی کبھار غلطی سے کوئی کنڈکٹر کسی سواری سے ایک آدھ روپیہ زیادہ وصول کرتا ہے تو سواریاں آسمان سر پر اٹھاتی ہیں لیکن قصاب تو لوگوں کو ڈنکے کی چوٹ پر لوٹتے ہیں لیکن کوئی ان کےخلاف کاروائی نہیں کرتا ہے۔ اسی طرح سبزی فروش اور دوسرے دوکانداراکثر و بیشتراز خود قیمتیں بڑھا کر سرکاری نرخناموں کو بالائے طاق رکھتے ہیں لیکن دکانداروں کو سرکار نے احتسابی عمل سے مثتثنیٰ رکھا ہے۔ اس وقت جبکہ لوگ مہنگائی کی چکی میں پسے جارہے ہیں سرکار کو چاہئے کہ وہ ان لوگوں کیخلاف فوری کاروائی کرے جو عوام کش اقدامات کے مرتکب ہورہے ہیں اور ان کو کڑی سے کڑی سزا دی جانی چاہئے۔ جہاں ساگ سبزیوں کا تعلق ہے تو ان کی قیمتیں کبھی بھی اعتدال پر نہیں رہتی ہیں۔ آج ایک قیمت تو کل دوسری قیمت یہ سب سبزی فروش خود کرتے ہیں۔ عوامی حلقے یہ سوال کررہے ہیں کہ کیا یہاں ایڈمنسڑیشن نام کی کوئی چیز نہیں ہے ۔ اسلئے انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ چکنگ سکارڈوں کو متحرک کرکے ان تاجروں کو قانون کے شکنجے میں کس لیں جو لوگوں کی جیبیں کاٹنے کے مرتکب ہورہے ہیں ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں