سرکیولر روڑ پروجیکٹ کی عمل آوری

ٹریفک دبائو کو کم کرنے اور شہر کی خوبصورتی کو بڑھانے کےلئے ریاستی حکومت نے سرکیولر روڈ پر وجیکٹ ہاتھ میں لیاتھا اور اس پر وجیکٹ کی زد میں آنے والی کئی سڑکوں کی نشاندہی بھی کی گئی جن کو کشادہ کرنا مطلوب ہے کشادگی کے اس عمل کے دوران جن لوگوں کی تعمیرات بشمول مکان اور دکانیں اس کی زد میں آئیںگی ان کےلئے باز آبادکاری کا بھی مسئلہ ہے جس کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے لیکن اس سے پہلے متاثرین کو بھی اعتماد میں لیاجانا چاہئے تاکہ ان کےلئے مناسب مقامات پر باز آبادکاری عمل میں لائی جاسکے۔ گذشتہ دنوں ڈویثرنل کمشنر بصیر احمدخان کی صدارت میں ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں باز آبادی کاری عمل میں سرعت لانے اور التوا میں پڑے معاملات کو فوری طور نمٹانے کےلئے افسروں پر زور دیا گیا تاکہ شہر میں سڑکوںکی کشادگی کے کام میں تیزی لائی جاسکے اور ٹریفک میں باقاعدگی آنے سے لوگوںو راحت رسانی یقینی بن سکے۔ سرکیولر روڈ کی زد میں جن لوگوں کے ڈھانچے آتے ہیں ان کےلئے معاوضے کو طے کرنے کےلئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ اس پروجیکٹ کی ترجیحات میں فتح کدل سے زینہ کدل، ٹینکی پورہ سے زیندار محلے تک اور جمالٹہ سے عالی کدل تک سڑکوں کو کشادہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے لیکن ایسا کرنے کےلئے جن لوگوں سے اراضی اور دیگر تعمیراتی ڈھانچے حاصل کئے جارہے ہیں ان کےلئے باز آبادکاری کا مسئلہ سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے کیوںکہ ماضی میں یہ دیکھا گیا ہے کہ بہت سے پروجیکٹوں کو عملانے میں اسلئے رکاوٹیں کھڑی ہوگئیں جب متاثرین کی باز آباد کاری کے عمل کو اطمینان بخش طریقے پر عملایا نہیں جاسکا یا متاثرین کو بھر پور معاوضہ ادا نہیں کیا جاسکا ہے۔ لیکن اگر اس بار بھی ایسا ہی کیاجائے گا تو یہ پروجیکٹ دھرے کا دھرا رہ جائے گا۔ اسلئے جیسا کہ اوپر ذکر کیاگیا ہے کہ متاثرین کو نہ صرف بھر پور معاوضہ دیاجانا چاہئے بلکہ ان کی باز آباد کاری سے قبل ان کو اعتماد میں لیا جانا چاہئے سرکیولر روڈ پروجیکٹ کے تحت ان سڑکوں کو کشادہ کیا جائے گا جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے جبکہ شہر میں ایسے کئی مقامات ہیں جہاں زبردست ٹریفک جام ہوتا ہے ان مقامات پر بھی سڑکوں کو کشادہ کرنے سے واقعی لوگوں کو تکلیف سے راحت مل سکتی ہے لیکن ان مقامات کی نشاہدیہی نہیں کی گئی ہے لیکن اب چونکہ سرکیولر روڈ پروجیکٹ پر کام شروع ہونے جارہا ہے تو ان علاقوں میں بھی سڑکوں کو کشادہ کیاجانا چاہئے جن علاقوں کی ابھی تک نشاندہی نہیں کی گئی ہے کیوںکہ پورا شہر Bottle Necksسے بھرا ہوا ہے کہ سڑکوں پر کہیں نہ کہیں کوئی ایسی جگہ ہے جہاں دن میں کئی کئی بار ٹریفک جام ہوجاتا ہے۔ ان رکاوٹوں کو ہٹانے سے ہی لوگوں کو راحت مل سکتی ہے۔ عوامی حلقوںکی طرف سے جہاں سرکیولر روڈ پر وجیکٹ کی سراہنا کی جارہی ہے وہیں پر اس بات کا بھی مطالبہ زور پکڑتا جارہا ہے کہ پورے شہر میں سڑکوں کو کشادہ بنانے کےلئے اقدامات کئے جائیں اور اس کے ساتھ ہی متاثرین کی باز آباد کاری ترجیحی بنیادوں پر عمل میں لائی جانی چاہئے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں