غرقآبی کے پے درپے حادثات

شادی پورہ سمبل میں اس وقت کہرام مچ گیا جب دوکمسن بچوں کی لاشیں ان کے لواحقین کے سپر د کردی گئیں۔ لوگ معصوم بچوں کی لاشیں دیکھ کر دم بخود رہ گئے کیوںکہ صرف گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ قبل ہی دونوں بچوں کو ہنستے کھیلتے ہوئے دیکھا گیا تھا لیکن اگلے ہی پل ان کے والدین پر اس وقت قیامت ٹوٹ پڑی جب معصوموں کی لاشیں ان کے سامنے ڈالدی گئیں۔ یہ معصوم شدید گرمی سے بچنے کےلئے نہانے کےلئے واسطے جہلم میں کود گئے تھے لیکن پانی کا تیز بہاو دونوں معصوموں کو اپنے ساتھ لے گیا اور دونوں کی زندگیوں کے چراغ گل ہوگئے۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلاحادثہ نہیں تھا اس سے قبل اسی مہینے تقریباًچھ سات افراد ڈوب کر موت کی وادیوں میں سوگئے تھے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے واقعات سے کیسے بچا جاسکے گا ۔ ہمارے سماج میں سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ لوگ ہر کام کےلئے سرکار کی طرف دیکھتے ہیں جبکہ بہت سے ایسے کام ہیں جو لوگ از خود اور اچھی طرح سے انجام دے سکتے ہیں۔ لیکن ایسا نہیں کیا جاتا ہے نتیجے کے طور پر ہمارے کام بننے کے بجائے بگڑ جاتے ہیں۔ جب ٹریفک حادثات میں اضافہ ہوجاتا ہے تو اس کےلئے جہاں ٹریفک حکام کو مورد الزام ٹھہرایا جارہا ہے وہاں یہ بات بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کہیں یہ ٹریفک حادثات ہماری غفلت شعاری کی وجہ سے رونمائ تو نہیں ہورہے ہیں۔ تیز رفتاری ،اوور ٹیکنگ ،ڈرائیونگ کے وقت موبایل فون کا استعمال ،ایسی بہت سی وجوہات ہیں جو حادثات کا موجب بن جاتی ہیں اسکے لئے حکومت کیا کرے گی۔ ان پر لوگوں کو خود کنڑول کرنا ہوگا تب کہیں جاکر ٹریفک حادثات پر قابو پایا جاسکتا ہے اسی طرح جب نوجوان اور بچے جہلم اور دوسرے ندی نالوں میں نہانے کےلئے اترتے ہیں تو ان کو اس سے باز رکھنے کےلئے لوگوں کو از خود آگے بڑھنا چاہئے اگرچہ پولیس بھی اس بارے میں اہم رول ادا کرسکتی ہے لیکن عملی طور پر پولیس کےلئے یہ ناممکن ہے کہ وہ دریاے جہلم کے ہر گھاٹ کی نگرانی کرتی پھرے ۔ جبکہ عام لوگ بھی دریاے جہلم یا دوسرے ندی نالوں کی نگرانی کا کام سکتے ہیںہر محلے گاوں اور بستی میں مسجد کمیٹیاں ہوتی ہیں جن کے اراکین چندہ جمع کرکے ان مقامات پر جہلم یا دوسرے ندی نالوں کی تار بندی کرسکتے ہیں جہاں جہاں خاص طور پر بچوں کے دریامیں نہانے کے امکانات ہوتے ہیں۔ یا والدین کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کو دریاکناروں کی طرف جانے اور نہانے سے روکنے کےلئے اقدامات کریں ۔ جوں ہی گرمائی ایام شروع ہوجاتے ہیں تو دریائوں اور ندی نالوں میں بچوں کے ڈوبنے کے واقعات رونما ئ ہونے لگتے ہیں اسلئے ایسے حادثات پر قابو پانے کےلئے جہاں سرکار کو بھی اقدمات کرنے چاہئیں اس کے ساتھ ہی عام لوگوں پر بھی ذمہ داری عاید ہوتی ہے کہ وہ بھی دریا وں ندی نالوں اور تالابوں کے نزدیک بچوں کو جانے سے روکیں ۔ اس مقصد کےلئے ایمہ حضرات اہم رول ادا کرسکتے ہیں جو مسجد کمیٹیوں کو متحرک کرکے امکانی حادثات کی روک تھام میں سرکار کے ساتھ تعاون کرسکتے ہیں ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں