آج ہندوستان کا سیکولر آئین خطرے میں ہے، کشمیر میں خوف کے ماحول پر دہلی میں کانفرنس کا انعقاد :مظفر شاہ

سرینگر/ریاست کے تینوں خطوں کے لوگوں کی خصوصی شناخت دفعہ 35 A کے بارے میں پائے جارہے تذبذب اور افراتفری کے پیش نظر ریاست کی کل جماعتی کانفرنس کا اجلاس بغیر کسی تاخیر کے بلانے کی اشد ضرورت ہے۔ کیونکہ سوشل میڈیا پر وائیرل ہونے والے حکمناموں اور 35 A   کے بارے میں مرکزی لیڈروں کے بیانات نے لوگوں میں مذید تنائو اور کشیدگی کا ماحول پیدا کیا ہے۔ جس کے نتیجہ میں قیاس آرائیوں اور افواہوں کی گرم بازاری سے سراسیمگی کا ماحول پیدا ہوا ہے ۔آپ نے کہا کہ جموں و کشمیر عوامی نیشنل کانفرنس  اورسیول سوسایٹی کارڑی نیشن کمیٹی کے مبران 35 A  کے تحفظ سے متعلق سپریم کورٹ کے دروازے پر شنوائی کے لئے شروع سے منتظر ہیں ۔آپ نے کہا کہ اے این سی مرکزی سطح پر بھی ایک متحدہ پلیٹ فارم کے قیام کے لئے  بھی کمربستہ ہے ۔جس میں شرکائ  اجلاس اِس بات کی مرکزی سرکار سے وضاحت چاہے گی کہ وہ جموں و کشمیر اور لداخ کے لوگوں سے کیا چاہتی ہے۔ اور اس ریاست کو کدھر لے جارہی ہے۔ مظفر شاہ نے جموں کی بارایسوسی ایشن کے متحرک ہو جانے اور 35 A   کے خطرات پر لب کشائی کرنے کا خیر مقدم کیا ہے۔ اور کہا کہ ...... یہ اْن کو ششوں کا حوصلہ افزائ نتیجہ ہے جس کی اے این سی اور سیول سوسایٹی نے کچھ عرصہ قبل جموں کے تمام مکتب فکر کے لوگوں کے ساتھ 35 A  کے بارے میں متوجہ ہونے کی ایک بنیاد ڈالدی ہے۔اے این سی نائب صدر نے کہا کہ ہندوستان اپنی تہذیب اور جمہوری روایات کے لحاظ سے ایک امتیازی شان رکھتا ہے ۔کیونکہ سیکولر کردار نے پورے ہندوستان کو امن و سلامتی کا گہوارہ بنایا تھا۔ لیکن آج ہندوستان کا سیکولر آئین اور نظریہ ذہنوں سے مٹانے کی منظم انداز میں کوشش ہو رہی ہے اور کچھ ناعاقیت اندیش فرقہ پرست اور شدت پسند عناصر خود کو ہی قانون اور آئین سمجھنے لگے ہیں جس کے نتیجہ میں ہندوستان کا سیکولر آئین خطرے میں ہے آپ نے کہا کہ ہندوتوا کی ایک نئی اصطلاح کو جنم دیا گیا ۔اس حوالہ سے کہ مرکزی سرکار کے سنجیدہ طبقہ کو اْن تشدد پسند عناصر کو لگام دینی چاہئے جو ملک کو طفلانہ نظام میں بدل دینا چاہتے ہیں۔اور اس کے حصے بخرے کرنا چاہتے ہیں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں