قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں زندہ رہنا مشکل بن رہا ہے

بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی سے متعلق نیوز ، تبصرے اور مضامین تو اخبارات کےلئے ریڈی میڈ مواد کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن اب ایسا نہیں رہا ہے کیونکہ اب واقعی مہنگائی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ غریبی کی سطح سے نیچے گذر بسر کرنے والوں کی تو بات ہی نہیں اب مڈل کلاس لوگوں کےلئے بھی موجودہ حالات میں زندگی گذار نا کارے دارد والامعاملہ ہے ۔ کیونکہ زندہ رہنے کےلئے جن بنیادی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ان کا حصول انتہائی مشکل بنتا جارہا ہے ۔ عیش و عشر ت کےلئے درکار اشیائ کو چھوڑ کر لازمی اشیا جو زندہ رہنے کےلئے ضروری ہوتی ہیں انسان کی دسترس سے باہر ہوجاتی ہیں اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ ساگ سبزیوں کی قیمتیں واقعی آسمان کو چھو رہی ہیں۔ مٹر ایک سو بیس روپے کلوکے حساب سے فروخت کیاجارہا ہے ۔ کبھی شلغم دس سے پندرہ روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کئے جارہے تھے لیکن آج یہی شلغم ساٹھ روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کئے جارہے ہیں ۔ ٹماٹر ،آلو ،بینگن ،ساگ وغیرہ کی قیمتیں بھی انسان کی دسترس سے باہر ہوتی جارہی ہیں ۔ قصابوں نے گوشت کی قیمتوں میں اچانک ساٹھ فی صد اضافہ کردیا ہے اور متعلقہ حکام نے کوئی کاروائی نہیں کی اور آج گوشت کھلے عام چھ سو روپے کلو کے حساب سے فروخت کیاجارہا ہے ۔ ڈبہ بند اشیا ئ کی قیمتیں تو یوں بھی انتہائی بہت زیادہ ہیں لیکن بعض ناعاقبت اندیش دکانداران پر من پسند قیمتوں کے لیبل چسپاں کرکے لوگوں سے بہت زیادہ قیمتیں وصول کرتے ہیں ۔ کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں ۔ آج کل کووڈ وائیرس میں جو اچھال آیا ہے اس میں انتظامیہ کافی زیادہ مشغول ہے لیکن لوگ کیاکھاتے پیتے ہیں کیاان کو یہ سب چیزیں مناسب داموں پر فروخت کی جارہی ہیں یا لوگوں کو دھوکا دیاجارہا ہے اس بارے میں متعلقہ حکام خاموش ہیں جس پر مختلف قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں ۔ کبھی کبھار محکمہ خوراک و رسدات کی طرف سے مارکیٹ چکنگ کی جاتی تھی لیکن وہ بھی اچانک روک دی گئی ۔ اس کی کیا وجوہات ہیں اس بارے میں کسی کو کچھ نہیں معلوم ہے ۔ اسی طرح ادویات کی قیمتوں کاجہاں تک تعلق ہے تو ساگ سبزیوں کی طرح ان کی قیمتوں میں بھی تقریباً ہر روز اضافہ کیاجارہا ہے ۔ لیکن نہ تو مرکزی حکومت اور نہ ہی یوٹی انتظامیہ اس بارے میں لوگوں کوئی راحت دے رہی ہیں ۔ جو لوگ لایف لانگ ادویات استعما ل کرتے ہیں وہ سخت پریشان ہیں ان کی پریشانیوں کا یہ عالم ہے کہ وہ ان ادویات کا متبادل تلاش کرنے لگے ہیں جو ڈاکٹروں نے ان کو عمر بھر استعمال کرنے کی صلاح دی ہے ۔ لیکن چونکہ ادویات کی قیمتوں میں حد سے زیادہ اضافہ کیاگیا ہے اسلئے لوگ کم قیمتوں والی ادویات کی تلاش کرتے ہیں ۔ ادویات بنانے والی کمپنیاں من مانیاں کررہی ہیں۔ کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں ۔ لوگ پریشان ہیں ۔ کریں تو کیا کریں؟حکومت قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام ہوگئی ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں