لوگوں کو مخصوص ٹیسٹنگ لیبارٹریوں کے پاس ٹیسٹ کرنے کیلئے کیوں مجبور کیاجاتا ہے ؟

آج کل کے دور میں ہر کوئی کام کے پیچھے دوڑ رہا ہے تاکہ دو پیسے کماکر اپنے اہل و عیال کی کفالت کرسکے۔ سرکاری ملازم ہو یا مزدور ، ڈرائیور ہو یا دکاندار ، تعمیراتی کامگار ہو یا سرمایہ دار ہر ایک روپے پیسے کمانے کی دوڑ میں لگا ہے کیونکہ آج کل اگر گھر میں پانچ چھ افراد ہیں تو عمر رسیدہ والدین یا چھوٹے بچوں کے سوا ہر کوئی گھروں سے نکل کمانے لگ جاتا ہے ۔ اس میں کسی کا کوئی قصور نہیں بلکہ آج کل ہر ایک کو پیسے کی حد سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے ۔ پیسے کمانا یا مختلف چیزوں پر منافع کمانا کوئی گناہ یا جرم نہیں لیکن اگر منافع حد سے زیادہ تجاوز کرجائے تو یہ گناہ ہے ۔ اس کی سزا آخرت میں ہر اس شخص کو ملے گی جو ناجائیز منافع خوری کا مرتکب ہورہا ہے ۔ گذشتہ کئی مہینوں سے متعدد شہریوں اور خاص طور پر آفتاب کے قارئین ہم سے رابطہ قایم کرکے ان ڈاکٹروں کےخلاف کاروائی کا مطالبہ کیا جو بقول ان کے لوگوں کو مخصوص ٹیسٹنگ لیبارٹری پر ہی ٹیسٹ کرنے پر مجبور کرتے ہیں ۔ بہت سے معزز شہریوں نے آفتاب کے دفتر پر آکر بتایا کہ وہ شہر کے ایک معروف نرسنگ ہوم پر خود کا یا دیگر افرادخانہ کا علاج معالجہ کرنے کےلئے جاتے ہیں لیکن وہاں ڈاکٹر ان مریضوں کو ایک ایسی لیبارٹری پرٹیسٹ کرنے کےلئے مجبور کرتے ہیں جہاں سے ان کو بقول شہریوں کے باظابطہ کمیشن ملتا ہے ۔ ان شہریوں نے بتایا کہ انہوں نے ڈاکٹروں کو بتایا کہ ان کے گھروں کے نزدیک کئی لیبارٹریاں ہیں وہ ان میں سے کسی بھی لیبارٹری کے پاس جاکر ٹیسٹ کرواسکتے ہیں ۔ لیکن ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وہ جس کسی بھی لیبارٹری پر ٹیسٹ کرنے کی صلاح دینگے تو اسی لیبارٹری کے پاس جانا ضروری ہوتا ہے کیونکہ ڈاکٹریہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ اس مخصوص لیبارٹری پر ٹیسٹ معیاری ہوتا ہے ۔ اس پر شہریوں کا کہنا ہے کہ اگردوسری لیبارٹریوں پر ٹیسٹ معیاری نہیں ہوتا ہے تو حکومت کس طرح ان کو کام کرنے کی اجازت دیتی ہے ان لیبارٹریوں کو تو بند کرنا چاہئے تھا لیکن لوگوں کا کہنا ہے کہ دراصل ڈاکٹروں کا کسی مخصوص لیبارٹری والے کے ساتھ ساز باز ہوتا ہے اور جتنے پیشنٹ ڈاکٹر بھیجتا ہے اسی حساب سے وہ ڈاکٹر کو کمیشن دیتا ہے ۔ ڈاکٹروں اور فارما کمپنیوں کے درمیان تو ساز باز پرانی بات ہوچکی ہے ۔ یہ ایک ایسا مافیا چل رہا ہے یہاں جس کی جانب حکومت کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے ۔ یہ سچ ہے کہ اس وقت انتظامیہ کووڈ 19پر قابو پانے کےلئے کوشاں ہے لیکن صحت سے جڑے جو دوسرے معاملات ہیں ان کو تو یکسر نظر انداز نہیں کیاجانا چاہئے تھا ۔ اسی لئے ڈاکٹروں ، ٹیسٹنگ لیبارٹری مالکان اور فارما کمپنیوں کے درمیان جو ساز باز چل رہا ہے اس پر بریک لگانے کی حد سے زیادہ ضرورت ہے بصورت دیگر بے کس اور بے بس لوگ مرتے رہینگے اور کوئی جلاد نما ڈاکٹروں کو پوچھے گا نہیں ۔ اگرچہ سب ڈاکٹر جلادوں کا رول ادا نہیں کرتے ہیں بلکہ ان میں خوف خدابھی ہے لیکن پرانی کہاوت ہے کہ ایک گندی مچھلی سارے تالاب کو گندہ کرتی ہے کے مصداق اگر ایک ڈاکٹر اس طرح کی بد دیانتی کا مظاہرہ کرتا ہے تو اس سے ساری ڈاکٹرس کمیونٹی بدنام ہوتی ہے اسلئے ڈاکٹروں کو بھی ایسے رسوائے زمانہ ڈاکٹروں کی نشاندہی کرکے انہیں اپنی برادری سے خارج کرنا چاہئے اور ایسے ڈاکٹروں کےخلاف قانونی کاروائی ناگزیر بن جاتی ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں