دھونس دبائو سے ذرائع ابلاغ کو خاموش کرنے کا نیا رجحان تشویشناک - کشمیر ٹائمزاور کے این ایس کو کوارٹروں سے نکالنے کا اقدام قابل مذمت: نیشنل کانفرنس

سرینگر/ نیشنل کانفرنس نے حکمرانوں کی طرف سے ذرائع ابلاغ کیخلاف دھونس و دبائو کی پالیسی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جموں وکشمیر میں مختلف حربے اپنا کر ذرائع ابلاغ کا قافیہ حیات تنگ کیا جارہا ہے۔ پارٹی کے ترجمان عمران نبی ڈار نے اپنے ایک بیان کہا کہ پہلے روزنامہ کشمیر ٹائمز کی مدیر اعلیٰ انوراھا بسین اور اب خبررساں ایجنسی کے این ایس کو الاٹ سرکاری کوارٹروں سے جبری طور نکالنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکمران کشمیر میں ایک منظم طریقہ کار کے ذریعے آزاد صحافت کا گھلا گھونٹ رہی ہے۔ این سی ترجمان نے کہا کہ ایسے اقدامات کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوںنے پہلے ہی یہاں کے صحافیوں کا قافیہ حیات تنگ کر رکھا تھا اور اس کے بعد میڈیا کو مکمل طور پر کنٹرول کرنے کیلئے نئی میڈیا پالیسی مرتب کی گئی اور اب غنڈہ گردی کے ذریعے ذرائع ابلاغ کو خاموش کرنے کی مذموم کوشش کی جارہی ہے۔ این سی ترجمان نے کہا کہ ذرائع ابلاغ پر دھونس و دبائو کی پالیسی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ گذشتہ ایک سرکاری نشریات میں کام کرنے والے 3ملازمین کو صرف اس لئے منسلک کیا گیا تھا کیونکہ انہوں نے اپنے پروگرام میں نیشنل کانفرنس کا پریس ریلیز نشر کیا تھا۔ حکومت کی طرف سے روا رکھی گئی پالیسی کو آزاد صحافت پر کاری ضرب قرار دیتے ہوئے نیشنل کانفرنس ترجمان نے کہا کہ ایسے اقدامات ایک ملک کی جمہوریت کیلئے سم قاتل ہے اور دنیا بھر میں ملک شبیہ خراب کرنے کا باعث بنتے ہیں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں