ٹریفک حادثات کی روک تھام کیسے کی جاے ؟)

وادی میں ہر روز کوئی نہ کوئی ٹریفک حادثہ ہوتا ہی رہتا ہے اور روزانہ اس طرح کی خبروں سے اخبارات بھرے پڑے رہتے ہیں۔کل ہی ڈورو اننت ناگ میں ایک المنا ک حادثے میں ایک نو عمر جوان اپنی جان سے ہاتھ دھوبیٹھا ۔غلطی کس کی تھی یا بھول چوک کےلئے کون ذمہ دار تھا اس سے قطع نظر ٹریفک حادثات جس طرح بڑھنے لگے اس پر عام لوگوں میں فکر و تشویش بڑھتی جارہی ہے ۔ڈورو حادثے سے پہلے بھی ہندوارہ میں بھی ایک حادثے میں آٹھ افراد شدید زخمی ہوگئے جن میں سے کئی ایک کی حالت نازک بتائی جاتی ہے ۔سرینگر جموں شاہراہ یعنی NH44پر تو روزانہ حادثات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ اس بارے میں کبھی لوگ ٹریفک پولیس کو ذمہ دار گردانتے ہیں تو کبھی تیز رفتاری سے گاڑیاں چلانے والوں کو ہی ذمہ دار ٹھہراتے ہیں ۔اس بارے میں بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ دراصل لائینس اجرا کرتے وقت حکومت کو چاہئے کہ وہ سخت رولز کو لاگو کرے تاکہ ہر ایر ا غیرا نتھو خیرہ لائینس حاصل نہ کرسکے اور اب جس کسی کو لائینس فراہم کی جائے اس سے تحریری طور یہ ضمانت لی جانی چاہئے کہ اگر وہ کسی طرح کے حادثے کا ذمہ دار قرار دیا جائے تو اس کی لائینس منسوخ کی جائے گی اس کے علاوہ اس کے خلاف قانونی کاروائی الگ سے ہوگی ۔ یہ ایک پہلو ہے تو دوسرا پہلو یہ ہے کہ ٹریفک عملے کو بھی احتساب کے دائیرے میں لایا جانا چاہئے اور یہ دیکھنا چاہئے کہ آیا ٹریفک عملہ اپنے فرایض بحسن خوبی انجام دیتے ہیں یا نہیں ۔ یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ یہاں کا ٹریفک محکمہ صرف شہر کے بالائی علاقوں تک ہی محدود ہوکر رہ گیا ہے جبکہ دوسرے علاقوں کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے ۔کبھی کبھار شہر کے نچلے علاقوں میں ایک آدھ ٹریفک سپاہی نظر آتا ہے اور بس ۔ اسی طرح وادی کے دیہات اور قصبہ جات میں ٹریفک عملے کی موجودگی نہ ہونے کے برابر ہے ۔ یہ بھی حادثات کی ایک بڑی وجہ بن رہی ہے ۔گاڑیاں چلانے والے خود کو ہر طرح کی پابندیوں سے آزاد قرار دیتے ہیں کیونکہ واقعی ان سے کوئی پوچھ تاچھ نہیں ہوتی ہے جیسا ڈورو میں پیش آئے ہوئے حادثے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں جو حادثہ رونما ہوا وہ صرف تیز رفتاری کا نتیجہ ہے ۔اسلئے اس وجہ سے بھی حادثات رونما ہوتے رہتے ہیں شام کے بعد جو گاڑیاں جن میں ٹپر بھی شامل ہیں اس تیز رفتار سے چلائی جاتی ہیں کہ اکثر حادثات رونما ہوتے رہتے ہیں ان حالات میں ضروری ہے کہ حکومت حادثات کی روک تھام کے لئے ایک ایسا مکینزم تیار کرے جس کے نتیجے میں حادثات کے امکانات کم ہوجائیں اور اس کے ساتھ گاڑیاں چلانے والوں کے لئے بھی سپیشل کانسلنگ کا بھی انتظام کیاجانا چاہئے تاکہ انسانی جانیں ضایع نہ ہونے پائیں ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں