بجلی فیس کے معاملے پرعوامی حلقوں کا شدید ردعمل

 عوامی حلقوں میں اس بات پر حیرت کا اظہار کیاجارہا ہے کہ ایک طرف سرکاری طور پر کہا جارہا ہے کہ بجلی فیس میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے جبکہ دوسری جانب فیس میں اضافہ کیا گیا ہے ۔یہ بات مختلف علاقوں سے آئے ہوئے عوامی وفود نے بتائی انہوں نے کہا کہ سرکار کا یہ کہنا کہ گذشتہ چار برسوں میں فیس میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ہے غلط ہے جبکہ لوگوں نے ان بلوں کو دکھایا جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ فیس میں اضافہ کیا گیا ہے ۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی ہے کہ سرمائی ایام شروع ہوتے ہی ایسے اقدامات کیوں اٹھائے جاتے ہیں جن سے لوگ اور زیادہ مشکلات میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔ کبھی ڈیجیٹل میٹر نصب کرنے کی باتیں کی جاتی ہیں کبھی کہا جارہا ہے کہ اب موبایل فون کی طرح  بجلی فیس ریچارج طرز پر حاصل کیاجائے گا اس طرح لوگوں کے دل و دماغ پر ایسا بوجھ ڈالا جاتا ہے کہ سب پریشان ہوجاتے ہیں اوپر سے آمدن کے ذرایع محدود ہونے سے پہلے ہی لوگ مالی مشکلات میں مبتلا ہوچکے ہیں ۔امیر ہو یا غریب اس وقت گرمی کی ضرورت ہر ایک کو ہے ۔کووڈ نے پہلے ہی پڑائو ڈالا ہے اور روز لوگ مررہے ہیں متاثر ہورہے ہیں ان پر بھی خرچہ بہت ہورہا ہے ۔ادھر ایسا کوئی گھر نہیں جہاں دو دو تین تین افراد بیمار نہ ہوں ان کے لئے ادویات کا انتظام بھی تو کرنا ہے دوائیاں کافی مہنگی ہیں۔کووڈ کی وجہ سے ڈاکٹر کہتے ہیں کہ ایسی غذائیں استعمال کی جانی چاہئے جن سے قوت مدافعت بڑھ جائے ۔جب ایسی اشیاء گھر لائی جاتی ہیں تو وہ کافی مہنگی ہوتی ہیں ۔ سرمائی ایام شروع ہوتے ہی کام کاج کے ذرایع محدود ہوجاتے ہیں غرض چاروں اور پریشانیاں ہی پریشانیاں اور حکومت لوگوں کی مشکلات کو سمجھنے اور اُن کو اِن حالات سے نکالنے کے بجائے ان پر اور زیادہ بوجھ ڈال کر ان کو ذہنی پریشانیوں میں مبتلا کرتی ہے اسلئے اس طرح کے اقدامات سے اس وقت گریز کرنے کی ضرورت ہے ۔حال ہی میں اخبارات میں ایک خبر شایع ہوئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ حکومت واٹر ٹیکسوں یعنی پانی کے لئے فیس میں بھی اضافے کے بارے میں سوچ رہی ہے اگر ایسا کیا گیا تو اس سے لوگوں کی کمر ہی ٹوٹ جائے گی۔ایک طرف یہ دعویٰ کیاجارہا ہے کہ حکومت لوگوں کی نگہبان اور ان کو درپیش دکھ درد دُور کرنے کے لئے ہے لیکن دوسری جانب ایسے اقدامات کئے جارہے ہیں جو مشکل ترین حالات پیدا کررہے ہیں۔آفتاب کو مختلف علاقوں سے جو اطلاعات موصول ہورہی ہیں ان کے مطابق لوگ چاہتے ہیں کہ موجودہ حالات میں نہ تو بجلی اور نہ ہی پانی کے لئے وصول کئے جانے والے فیس میں کوئی اضافہ کیا جائے بلکہ اگر ہوسکے تو اس میں اضافے کے بجائے کمی ہی کی جائے تاکہ لوگ اطمینان کا سانس لے سکیں۔ اس کے برعکس اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کے رحجان پر قابو پانے کے لئے سخت ترین اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ عام لوگوں کی قوت خرید برقرار رہ سکے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں