جنگل سمگلنگ اور کٹائو سے جنگلوں کو بچانے کی ضرورت

 فارسٹ رائیٹس ایکٹ 2006کے تحت ان لوگوں کو کافی مراعات حاصل ہیں جو جنگلوں میں رہ رہے ہیں اور جو جنگلات کی زمین پر کاشتکاری بھی کرکے اپنے بال بچوں کا پیٹ پالتے ہیں ۔حال ہی میں حکومت نے جنگلات سے ان لوگوں کو بے دخل کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے جو جنگلوں میں رہایش پذیر ہیں لیکن جنگل سمگلروں اور چوروں اور جنگلی حیات کو نقصان پہچانے والوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جارہی ہے ۔جنگلات کا کٹائو اور جنگل چوروں کے خلاف اگر کاروائی کی جاتی تو آج صورتحال کچھ مختلف ہوتی کیونکہ دیکھا جارہا ہے کہ کل تک جہاں گھنے جنگل تھے اور سورج کی روشنی زمین پر نہیں پڑرہی تھی آج وہاں چٹیل میدان نظر آرہے ہیں ۔سبز سونے کو لوٹنے والوں کے خلاف اگر پہلے سے کاروائی کی جاتی تو آج یہ دن دیکھنے نہ پڑتے ۔ حالات کا ناجائیز فایدہ اٹھا کر جنگلوں سے کروڑوں کی لکڑی سمگل کی جاتی رہی یہ تک دیکھنے کی کوشش نہیں کی گئی کہ اس سے کشمیر کا کیا حال ہوگا ۔اس میں زیادہ تر اثر و رسوخ والے لوگ شامل بتائے گئے جو جنگل چوری میں پیش پیش رہے اور اب اسوقت جنگلوں میں رہایش پذیر لوگوں کو بے دخل کرنے کا جو عمل شروع کیا گیا ہے اس کے نتیجے میں وہ لوگ پریشان کن صورتحال سے دوچار ہوگئے جو دہائیوں سے جنگلوں میں رہ رہے ہیں ۔مرکزی حکومت نے کشمیر کو دفعہ 370 کے تحت حاصل خصوصی پوزیشن کی منسوخی کے بعد کئی مرکزی قوانین کا اطلاق کشمیر میں لایا لیکن ابھی تک فاریسٹ رائیٹس ایکٹ 2006یہاں لاگو نہیں کیا گیا جس کے بارے میں چیف سیکریٹری نے حالیہ ایام میں کہا تھا کہ اس ایکٹ کو لاگو کیا جائے گا لیکن ابھی تک یہ ایکٹ لاگو نہیں کیاگیا ۔ اس ایکٹ کے تحت جنگلوں میں رہایش پذیر لوگوں کو بہت سی سہولیات اور مراعات کا حقدار قرار دیا گیا تھا لیکن اس کے ساتھ ہی ان کو یہ بھی کہا گیا کہ وہ جنگل کی اراضی کو کمرشیل مقاصد کے لئے استعمال نہیں کرسکتے ہیں لیکن اس کے باوجود ان لوگوں کو بے دخلی کے نوٹس دئے جاتے ہیں ان میں سے ایک وفد نے بتایا کہ وہ عرصہ دراز سے وہاں رہ رہے ہیں اور بو د باش اختیار کرنے کے علاوہ وہ کوئی ایسی کاروائی یا عمل نہیں کررہے ہیں جس سے ان کو کوئی مالی فائیدہ مل رہاہو لیکن بقول ان کے انہیں نوٹس بھیجا جارہا ہے ۔اب یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ کس طرح سے اس معاملے کو سنبھال لیتی ہے ۔کرنا تو یہ چاہئے تھا کہ جو لوگ جنگلوں کو لوٹتے ہیں ان کے لئے عمر قید کی سزا رکھنے کی ضرورت تھی لیکن وہ دن دھاڑے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اسلئے جنگلوں کو چوروں اور کٹائو سے بچانے کے لئے سخت اقدات اٹھانے سے ہی جنگل بچ سکتے ہیں اور کشمیر کے اثاثوں کو تحفظ فراہم کیا جاسکتا ہے ۔اس کے ساتھ ہی جنگلوں کی طرف خصوصی توجہ دی جانی چاہئے جو لوگ قانون کے دائیرے میں رہ کر ان جنگلوں میں بودوباش اختیار کرتے ہوں ان کے حقوق کا تحفظ لازمی ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں