آج ووٹنگ کا پہلا مرحلہ

 ڈی ڈی سی ،پنچایت اور میونسپلٹی کے ضمنی انتخابات کے سلسلے میں آج یعنی 28نومبر کو پہلے مرحلے کے تحت  ووٹ ڈالے جارہے ہیں ۔ سرکاری طور پر بتایا گیا کہ ووٹنگ کے لئے تمام انتظامات مکمل کئے گئے ہیں اور امیدواروں کے ساتھ ساتھ پولنگ عملے کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کے لئے اقدامات کئے گئے ہیں۔ان انتخابات کے سلسلے میں یہاں کچھ خاص گہما گہمی نہیں دکھائی دی ۔ یعنی خاص طور پر شہر میں تو انتخابات کے حوالے سے کوئی غیر معمولی سرگرمی نظر نہیں آئی ہے البتہ سنا جارہا ہے کہ بعض دیہات میں امیدواروں نے روڈ شوز کئے اور ریلیاں نکالیں ۔ اس دوران انہوں نے ووٹرز کو اپنی جانب راغب کرنے کے لئے بڑے بڑے وعدے بھی کئے ۔ جمہوری نظام میں ووٹ کی کافی اہمیت ہوتی ہے اور ووٹ سے ہی حکومتیں بنتی ہیں اور ووٹ سے ہی بڑے بڑے لیڈروں کو دھول چٹادی جاتی ہے ۔ اسلئے ووٹنگ کی اہمیت اور افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے اسلئے لوگوں کو بھی سوچ سمجھ کر اپنے ووٹوں کااستعمال کرنا چاہئے اگر بلاسوچے سمجھے ووٹ ڈالا جائے گا تو اس سے مطلوبہ نتایج برآمد نہیں ہوسکتے ہیں اور اپنی پسند کے نمایندے سرکاری اداروں میں نہیں پہنچ سکتے ہیں اسلئے ووٹ کی قیمت کو پہچاننا ضروری ہے تاکہ مناسب امیدوار کو پالیسی ساز ایوانوں میں پہنچایا جائے ۔ اگر اس بارے میں جذبات سے کام لیاجائے گا تو یہ کسی بھی صورت ووٹنگ عمل کے لئے مناسب نہیں رہے گا۔بڑے بزرگوں کا کہنا ہے کہ جو کوئی بھی کام کرنا ہوگا دماغ سے کرنا چاہئے یعنی کافی غور و حوض کرنا ٹھیک رہتا ہے ۔موجودہ انتخابی عمل آٹھ مرحلوں میں مکمل ہوگا اور ووٹنگ کا پہلا مرحلہ آج ہوگا اور آخری مرحلے میں 19دسمبر کو ووٹ ڈالے جاینگے ۔ 22دسمبر کو ووٹوں کی گنتی ہوگی اور اسی دن نتایج کا بھی اعلان ہوگا ۔ یہاں 20ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کونسل ہیں جن میں ممبروں کی کل تعداد 280ہے اور ہر کونسل میں ممبروں کی تعداد 14,14ہوگی ۔ان کے لئے ووٹنگ ہوگی اور سرکاری ذرایع کے مطابق ڈسٹرکٹ کونسلوں کا قیام عوام کو تعمیر و ترقی کے اصل مقاصد سے روشناس کرانے کے علاوہ ان کو اس بارے میں سرکاری دفاتر کے چکر کاٹنے کے بجائے ان کی دہلیز پر ہی اس حوالے سے ان کے مسایل حل کئے جاینگے ۔ اس وقت 12153پنچایتی نشتیں خالی ہیں اور ان کے لئے بھی ووٹ ڈالے جاینگے جبکہ 234میونسپل وارڈوں کے لئے بھی ووٹنگ ہوگی ۔ ووٹنگ کا عمل طویل ہے یعنی آٹھ مرحلوں پر پھیلا ہوا ہے ۔ یہاں اس عمل میں ایک طرف جہاں پیپلز الائینس برائے گپکار اعلامیہ سے وابستہ سات پارٹیوں کے امیدوار میدان میں ہیں جبکہ دوسری طرف بھاجپا اور اس کے حامی امیدوار بھی انتخابی میدان میں موجود ہیں اور دیکھنا ہے کہ کس کا پلڑا بھاری رہتا ہے اور کس کو باہر کا راستہ دکھایا جائے گا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں