وادی کشمیرکے اطراف واکناف میں بین الاقوامی اسٹیڈیم کی عدم دستیابی عوامی حلقوں نے ہر ضلع میں اسٹیڈیم کے قیام کا مطالبہ کیا

سرینگر /واد ی کشمیر کے اطراف واکناف میں کھیل کود کیلئے درکار اسٹیڈیم کی عدم دستیابی کے باعث نوجوان شاہرائوں اور باغات میں کرکٹ ، فٹبال ، ہاکی کھیلنے پر مجبور ہیں۔ وقت وقت کے حکمرانوں نے وادی کشمیر میں کھیل کود کو فروغ دینے کی خاطر صرف زبانی جمع خرچ کیا عملی طورپر کھلاڑیوں کو سہولیات فراہم کرنے کی خاطر کچھ بھی نہیں کیاجا رہا ہے۔ وادی کشمیر کے کھلاڑیوں میں صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں ، ملکی اور بین الاقوامی سطح پر کشمیر کے کھلاڑیوں نے اپنا لوہا منوایا ہے جس کی ہر سطح پر پذیرائی مل رہی ہے لیکن کھلاڑی اس پر شدید برہمی کا اظہار کر رہے ہیں اُنہیں وہ انفراسٹرکچر میسر نہیں جو کھلاڑیوں کو ہونا چاہئے۔ کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر کے ہر ضلع میں بین الاقوامی سطح کے معیار کا ایک اسٹیڈیم ہونا چاہئے جہاں پر کھلاڑی اپنی صلاحیتوں کو نکھار سکے ۔ کئی نامور کھلاڑیوں نے بتایا کہ کھلاڑیوں کے ہنر کو پرکھنے اور اُنہیں بہتر تربیت دینے کی خاطر ہر ضلع میں بین الاقوامی سطح کا ایک اسٹیڈیم ہونا چاہئے۔ انہوںنے کہاکہ وادی کشمیر میں پچھلے تیس برسوں کے نامساعد حالات کی وجہ سے کھیل کود کی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہو ئے ہیں اب چونکہ حالات بہتری کی جانب سے گامزن ہے لہذا جموںوکشمیر کی انتظامیہ کو ہر ضلع میں بین الاقوامی معیار کا اسٹیڈیم تعمیر کرنا چاہئے تاکہ نوجوان نسل کو کھیل کود کی طرف راغب کرنے کے ساتھ ساتھ وہ قومی اور بین الاقوامی مقابلوں میں اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرسکے۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کیلئے بھی ہر سال پروگرام کا اہتمام کرئے تاکہ وادی کشمیر میں کھیل کود سے جڑے افراد کے حوصلے بلند ہونے کے ساتھ ساتھ زیادہ سے زیادہ نوجوان کھیلوں میں اپنی قسمت آزمائی کر سکے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں