بند کمروں میں گیس کے اخراج سے اموات تدارک کے لئے حکومت آگے آئے

 اوڑی میں ایک دلدوز حادثے میں ایک ہی کنبے کے تین افراد از جان ہوگئے گویا پوراکنبہ ختم ہوگیا ۔ اس واقعے پر ہر آنکھ نم ہوگئی اور دل خون کے آنسو رونے لگا ۔ رات کو تینوں ماں بیٹیاں جب سوئی ہونگی تو ان کو اس بات کا وہم و گمان بھی نہیں ہوگاکہ اگلی صبح کا سورج ان کو دیکھنا نصیب نہیں ہوگا۔اس حادثے کے بارے میں ابھی تک پولیس کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی ۔کیونکہ پولیس کا کہنا ہے کہ جب تک پوسٹ مارٹم کی رپورٹ موصول نہیں ہوگی تب تک اس واقعے کے بارے میں وثوق سے کچھ نہیں کہاجاسکتا ہے ۔لیکن وہاں پا س پڑوس والے کہتے ہیں کہ بد نصیب کنبے سے شام کو گیس بخاری جلائی تھی اور اس سے نکلنے والے گیس کے اخراج نے تینوں ماں بیٹیوں کی زندگیوں کا چراغ گُل کیا ۔پورا کنبہ خالی ہوگیا علاقے میں صف ماتم بچھ گئی کیونکہ جب تینوں ماں بیٹیوں کا جنازہ ایک ساتھ اٹھایا گیا وہاں رقت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے ۔یہ اپنی نوعیت کا پہلا ایسا واقعہ نہیں جس میں گیس بخاری نے کئی افراد کی جانیں لی ہیں بلکہ اس سے پہلے بھی اس قسم کی وارداتیں رونما ہوئی ہیں ۔لیکن ان کی موثرروک تھام کے لئے کوئی کاروائی نہیں کی جارہی ہے ۔آج کل وبائی بیماری کووڈ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچادی ہے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ سرمائی ایام یعنی سردیوں میں کووڈ انتہائی مہلک روپ دھار سکتا ہے اگر احتیاط برتنے میں غفلت شعاری کا مظاہرہ کیاجاے گا۔ڈاکٹروں نے سب سے پہلے اس بات کی ممانعت کی ہے کہ بند کمروں میں رہنے سے اجتناب کیاجاے یعنی ہم کشمیریوں کی عادت بن گئی ہے کہ سرما شروع ہوتے ہیں در و دیواروں پر پالی تھین اور موٹے موٹے پردے لگا کر کمرہ پوری طرح بند کردیتے ہیں اور اسی میں بیٹھتے ہیں ۔کمرے میں گیس ہیٹر یا کانگڑیاں بھی رکھی جاتی ہیں کنبے کے سب افراد وہیں پر بیٹھتے ہیں اس سے بیماریاں پھیلتی ہیں جسم میں آکسیجن کی کمی ہوجاتی ہے اور اسطرح لوگ آسانی سے کووڈ اور سانس کی دوسری بیماریوں کے شکار ہوجاتے ہیں ۔جو لوگ حمام جلاتے ہیں وہ بھی کمرے کو بند رکھتے ہیں اسلئے اس عمل کو ترک کرنے سے نہ صرف خود کوبچایا جاسکتا ہے بلکہ پورے کنبے کو بھی بیماریوں سے نجات ملتی ہے ۔ ماہر ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ہر کمرے میں مناسب وینٹی لیشن کا انتظام کیا جانا چاہئے جس سے تازہ ہوا کمرے کے اندر داخل ہوسکے ۔کمرے کو ہرگز ہرگز پوری طرح بند نہیں رکھنا چاہئے ۔گیس وغیرہ کے اخراج سے اموات کی زیادہ تعداد گائوں میں ہوتی ہے ان حالات میں حکومت کو چاہئے وہ میڈیا کے ذریعے لوگوں کو اس بارے میں آگاہ کرنے کے علاوہ گائوں گاوں پبلک ایڈریس سسٹم کے ذریعے لوگوں کو انتباہ کریں کہ وہ کسی بھی صورت میں بخاریوں یا گیس ہیٹرس وغیرہ بند کمروں اور خاص طور پر سونے کے کمروں میں نہ جلائیں بلکہ ہر کمرے میں مناسب وینٹی لیشن کا انتظام کریں تاکہ کمروں میں تازہ ہوا آتی جاتی رہے اس سے بیماریوں میں مبتلا ہونے کے امکانات کم ہوجاتے ہیں اور انسانی جانیں بچ جاتی ہیں ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں