کیا کورونا ویکسین تیار کر لی گئی ہے ؟

 برطانیہ نے اس بات کا دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کورونا ویکسین تیار کرکے اس کی وسیع پیمانے پر استعمال کرنے کی بھی اجازت دی ہے ۔برطانوی دوا سازکمپنی جس نے اس ویکسین کو تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے کا کہنا ہے کہ ویکسی نیشن کا پروگرام آئیندہ ہفتے سے شروع کیا جائے گا اور یہ 90فی صد تحفظ کرسکتا ہے۔کل ہی بیجنگ میں سرکاری طور پر بتایا گیا کہ چین کی ایک دوا ساز کمپنی نے بھی کورونا ویکسین تیار کرلی ہے اور یہ ویکسین مختلف ملکوں کو بھیجنے کے لئے اس کی بہت بڑی کھیپ ہوائی اڈوں پر پہنچادی گئی ہے۔ چین نے کہا کہ وہ دنیا کے غریب سے غریب ملکوں کو بھی کورونا ویکسین مفت فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ دنیا کے کسی بھی حصے میں اگر کوئی معمولی سا معمولی واقعہ بھی رونما ہوتا ہے تو پلک جھپکتے ہی پوری دنیا کو اس کا پتہ چلتا ہے ۔ آج کل کمیونکیشن کا دور ہے اور سوشل میڈیا کا زمانہ ہے ۔ آج لوگ صرف ریڈیو یا ٹی وی پر ہی بھروسہ نہیں کرتے ہیں بلکہ سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ دوسرے ذرایع سے بھی پل پل کی خبریں مل جاتی ہیں اسی طرح برطانیہ اور چین کی طرف سے کورونا ویکسین تیار کرنے کی خبر بھی لوگوں نے سنی لیکن اس پر کم ہی یقین کیاجارہا ہے کیونکہ بہت سے ملکوں نے اب تک اسی طرح کے دعوے کئے ہیں اور کہا ہے کہ انہوں نے کورونا ویکسین تیار کرلی ہے ۔ گذشتہ ایام میں روس نے بھی اسی طرح کا دعویٰ کیا اور یہاں تک کہ روسی صدر کی بیٹی نے کہا کہ وہ رضاکارانہ طور پر کورونا ویکسین کا پہلا ڈوزلینے کے لئے تیار ہے ۔ اس کے بعد کیا ہوا کسی کو کچھ معلوم نہیں ۔ ابھی کل ہی ایمس کے ڈائیریکٹر نے کہا کہ ایک دو ماہ کے اندر اندر بھارت میں بھی کورونا ویکسین تیار ہوگی ۔ کبھی یہ کہا گیا کہ 2021کے جون یا جولائی کے مہینے میں کورونا ویکسین تیار ہوکر مارکیٹ میں آجائے گی تب تک نہ جانے کتنے لوگ لقمہ اجل بن جاینگے کتنے متاثر ہونگے ۔ کشمیر سمیت بھارت کی مختلف ریاستوں میں کورونا کی وبا ء تھمنے کا نام تک نہیں لیتی ہے ۔ لیکن کورونا ویکیسن تیار ہوئی یا نہیں اس بارے میں وثوق سے کچھ نہیں کہاجاسکتاہے ۔ کورونا وائیرس نے دو تین ماہ قبل بھیانک روپ اختیار کرلیا ہے اور اب تک اس نے لاکھوں لوگوں کو نگل لیا ہے اس وقت بھی دلی، تامل ناڈو، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش ، گجرات ، راجستھان اور کشمیر میں کورونا وائیر س کے معاملات بڑھ رہے ہیں یہ زنجیر نہیں ٹوٹ رہی ہے بلکہ زنجیر مضبوط بنتی جارہی ہے ۔ اگر ایک بار یہ ٹوٹتی توہوسکتا ہے اس کے کم ہونے کے امکانات پیدا ہوتے ۔ لیکن بدقسمتی سے وائیرس پھیل رہا ہے اور لوگوں کو اپنی زد میں لارہا ہے ۔ ماہرین طب کا کہنا ہے کہ اس سال سردیوں کے ایام میں یہ کچھ زیادہ ہی اثر دکھانا شروع کرے گا یعنی ایک تو سردیاں تو دوسری طرف وائیرس ۔ لوگوں کو مستقبل قریب میں اس وائیرس کے حوالے سے کس قدر پریشانیاں لاحق ہونگی اس بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں