جنگل حقوق قانون اور اس کی عمل آوری

 گذشتہ دنوں سرکاری طور پر جموں کشمیر میں جنگل حقوق قانون 2006کی عمل آوری پر غور کیا گیا اور  اس عمل کی دیکھ ریکھ کے لئے چیف سیکریٹری کی سربراہی میں دس رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی جو وقتاًفوقتاًاس بات کا جائیزہ لیتی رہے گی کہ جنگل سے متعلق قانون سال 2006پر کس حد تک عمل آوری ہورہی ہے۔سرکاری طور پر بتایا گیا کہ بنیادی اور اصل حقایق پر مبنی رپورٹ مرتب کرنے کے لئے ضلعی و سب ضلعی سطح کی کمیٹیاں تشکیل دی گئیں ۔اس قانون کا مقصد و مدعا یہ ہے کہ کس طرح درجہ فہرست قبایل اور دیگر روائیتی جنگلات میں سکونت پذیروں کے لئے جنگلات اراضی کے مالکانہ حقوق دئے جائیںگے۔کمیٹی کی طرف سے یہ بات واضح کی گئی ہے کہ جن لوگوں کو جنگلات کی اراضی کے مالکانہ حقوق دئے جاینگے ان کو مشروط طور پر مالکانہ حقوق دئے جاینگے ۔اس سلسلے میں جو میٹنگ منعقد ہوئی اس میں بتایا گیا کہ جنگلات میں رہنے والے قبایلی امور اور دیگر جنگل باشوں کو جنگل اراضی پر حقوق تفویض کئے جاینگے ۔جن کے تحت وہ جنگلات میں بود و باش اختیار کرنے،روزگار کے لئے کاشتکاری شروع کرسکتے ہیں البتہ یہاں کوئی ایسی سرگرمی اختیار نہیں کی جاسکتی ہے جس کی وجہ سے جنگل میں ماحولیاتی توازن بگڑ سکے یعنی وہ روزگا ر کمانے کے لئے کوئی بھی چھوٹی بڑی مشینری نہ نصب کرسکتے ہیں اور نہ ہی اسے استعمال کرسکتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔جہاں تک اس قانون کو دیکھا جائے گا تو یہ ٹھیک ہی ہے لیکن جنگل کہاں ہیں جن کے لئے قانون بنایا گیا اور اسے عملانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ خاص طور پر گذشتہ تیس برسوں سے تو جنگلوں کو نیست و نابود کرکے رکھ دیا گیا ۔اونچے اونچے اور سر سبز درختوں کا جنگل چوروں نے صفایا کیا اور اس میں ان کی مدد و اعانت کرنے والے وہ لوگ تھے جن کو جنگلوں کو تحفظ فراہم کرنے کا ذمہ رکھا گیا تھا ۔ اس کے ساتھ ہی ملی ٹینسی کے دور میں سب سے زیادہ جنگلوں کو ہی نقصان پہنچایا گیا۔ اب جبکہ یہ قانون بنایا گیا ہے تو سب سے زیادہ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ جنگل اراضی کہاں سے شروع ہوتی ہے اور کہاں پر ختم ہوتی ہے ۔ اس کے بعد ہی یہ دیکھا جاناچاہئے کہ جنگل اراضی پر جو لوگ بود و باش اختیار کئے ہوئے ہیں کیا وہ وہی لوگ ہیں جن کے لئے یہ قانون بنایا گیا ہے یا یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ناجائیز طور پرجنگل کی اراضی پر قبضہ کیا ہوا ہے ۔ سب سے پہلے اسی بات کو یقینی بنایا جانا چاہئے ۔کیونکہ اس بات کی اطلاعات برابر موصول ہورہی ہیں کہ جنگل اراضی پر ایسے لوگ بھی قابض ہیں جنہوں نے جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے محاورے کو حقیقت کا روپ دیا ہے ۔ جب ان کو جنگلوں کی زمین سے بے دخل کیا جائے گا تب کہیں جاکر یہ کہا جاسکتا ہے کہ واقعی اس قانون کے تحت مستحق لوگوں کوفایدہ مل سکتا ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں