میوے کی ڈھلائی پرپچاس فی صد سبسڈی کا اعلان

 ایک مقامی خبر رساں ایجنسی کے این ایس نے ڈائیریکٹر ہارٹیکلچر اعجاز احمد بٹ کے حوالے سے بتایا کہ مرکزی حکومت نے کولڈ چین یعنی میوہ باغوں سے بازار تک ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں پچاس فی صد سبسڈی دینے کا اعلان کیا ہے جبکہ میوہ کو ذخیرہ کرنے کیلئے مرکزی حکومت کی جانب سے کولڈ سٹوریج بھی قایم کئے جارہے ہیں ۔سیاحت کے بعد ہارٹیکلچر ہی ایک ایسا سیکٹر تصور کیاجارہا ہے جو وادی کی معیشت کیلئے ریڈھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ۔ سیاحت تو نوے فی صد ختم ہوگئی ہے جبکہ اب لے دے کے ہارٹیکلچر ہی ایسا سیکٹر ہے جس کے ساتھ لوگوں نے کافی امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں لیکن اب یہ سیکٹر بھی آہستہ آہستہ ختم ہوتا جارہا ہے اور اس سے وابستہ لوگ جن میں فروٹ گروورس ، باغ مالکان ، ٹھیکیدار، مزدور اور ٹرانسپورٹر شامل ہیںمالی مشکلات میں مبتلا ہوگئے ہیں اور وہ کوئی دوسرا دھندا شروع کرنے کے بارے میں غور و فکر کرنے لگے ہیں ۔ یہ بھی سُنا جارہا ہے کہ بہت سے ایسے لوگ جو میوے کی تجارت کرتے تھے نے اب اپنا دھندا ترک کرکے کوئی دوسرا کام شروع کیا ہے ۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں اور سب سے بڑی وجہ حالات کی مار بتائی جاتی ہے جبکہ دوسری وجوہات میں ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی، میوے کی ڈھلائی کی شرحوں میں اضافہ ، جراثیم کش ادویات میں ملاوٹ ، وغیرہ شامل ہے ۔ ان حالات میں میوہ کس طرح باہر کی منڈیوں تک پہنچ سکتا ہے ۔ ہمارے یہاں کے میوہ بیوپاری جن میں میوہ اگانے والے اور دوسرے تاجر شامل ہیں دیوالی سے پہلے پہلے یہاں کا میوہ باہر کی منڈیوں تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ دیوالی پر زیادہ سے زیادہ کشمیری میوہ باہر کے لوگ استعمال کرسکیں لیکن اس برس کووڈ 19اور بعض دوسری وجوہات کی بنا پر بہت کم میوہ باہر کی منڈیوں تک پہنچایا جاسکا نتیجے کے طور پر فروٹ گروور سے لے کر میوہ سے وابستہ دوسرے لوگوں کو زبردست نقصان سے دوچار ہونا پڑا۔ فروٹ تاجروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ پنجاب اور ہریانہ میں لٹیروں کی ٹولیاں رات کے دوران کشمیری ٹرکوں کو لوٹتی ہیں ۔ اس طرح اب یہاں کے ڈرائیور باہر جانے سے خوف محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں کرنا ل میں چند غنڈوں کو مقامی لوگوں نے ازخود پکڑ کر پولیس کے حوالے کردیا ۔ یہ لوگ موٹرسائیکلوں پر اپنے چہروں کو نقابوں کے پیچھے چھپائے کشمیری ڈرایئوروں کو ڈرا دھمکا کر ان سے بھاری رقومات چھین لیتے ہیں ۔ بہر حال اب معاملہ پولیس کے پاس ہے اور اس نے تحقیقات شروع کردی ہے ۔ اب حکومت ہند نے میوہ ٹریڈرس کو پچاس فی صد سبسڈی دینے کا جو اعلان کرنے کے علاوہ یہاں کولڈ سٹوریج قایم کرنے کی بات کی ہے اس پر فرووٹ گروورس نے اطمینان کا اظہار کیا ہے اور اسے معاشی خوشحالی کی جانب مثبت قدم قرار دیا ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں