تیز رفتار نیٹ کیلئےانتظار کب تک؟

 وزیراعظم نریندر مودی نے 5جی نیٹ ورک کو بر وقت شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ملک کے عوام کو بااختیار بنانے میں مدد مل سکتی ہے ۔ وزیر اعظم کا یہ فرمان زبردست اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس وقت ڈیجیٹل زمانہ ہے ہر کام کے لئے کمپیوٹر نیٹ وغیرہ کا سہار ا لیاجاتا ہے اور اس کے بغیر آج کی دنیا میں کوئی کام ممکن نہیں اور نہ ہی واقعی اس کے بغیر کچھ ہوسکتا ہے ۔ نرسری کے سکول بچے سے لے کر بڑے بڑے سائینسدانوں ، ڈاکٹروں ، انجنیئروں ،تاجروں ،کاروباریوں ،افسروں، سرکاری ملازمین وغیرہ سب کے سب ڈیجیٹل دنیا میں شامل ہوگئے ہیں اور ملک کو آگے بڑھانے کے لئے نیٹ کی تیز رفتار لازمی ہے بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ اس کے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا ہے تو بیجا نہ ہوگا۔ وزیر اعظم نے کہا تیکنیکی اپ گریڈیشن کی وجہ سے ہینڈ سیٹس اور گجگیٹ کو بار بار بدلنے کا کلچر اب چلینج بن گیا ہے ۔ انہوں نے مستقبل میں لمبی چھلانگ لگانے کے لئے 5جی نیٹ ورک کو وقت پر شروع کرنے اور لاکھوں ہندوستانیوں کو بااختیار بنانے کی اپیل کی ہے ۔ کسی بھی ملک کا سربراہ جب یہ کہتا ہے کہ ملک کو آگے بڑھانے کے لئے کون کون سے اقدامات لازمی ہیں تو سمجھ لینا چاہئے کہ وہ کوئی غلط بات نہیں کہہ رہے ہیں بلکہ وزیر اعظم کا یہ کہنا مبنی بر حقیقت ہے کہ ملک کو آگے لے جانے اور ترقی کی دوڑ میں لمبی چھلانگ لگانے کے لئے 5جی نیٹ ورک کو بر وقت شروع کیاجانا چاہئے ۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ کشمیر جسے جنت بے نظیر کہتے ہیں اب بھی صدیوں پیچھے ہے ان معاملات میں ۔ یہاں ابھی بھی 2جی نیٹ ورک ہی چل رہا ہے جس سے سب سے پہلے طلبہ کی پڑھائی متاثر ہورہی ہے اس کے بعد کاروباری سرگرمیاں بھی اس سے متاثر ہورہی ہیں اور میڈیکل شعبہ بھی آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے کی اور جارہا ہے ۔ جب 5اگست 2019کو مرکزنے جموں کشمیر سے اس کو حاصل خصوصی درجہ چھین لیا اور اسے ریاست کے بجاے مرکز کے زیر انتظام علاقہ قرار دے کر پرانے تمام قاعدے قانون ختم کردئے تو اسی وقت سے یہاں 2جی نیٹ ورک جاری رکھا گیا ۔ جب عوام نے اس پر احتجاج کیاتو بتایا گیا کہ  4جی نیٹ ورک شروع کرنے سے سرحد پار کے عناصر کو اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے میں مدد مل سکتی ہے تب سے یہاں صرف 2جی چل رہا ہے اور وہ بھی من مرضی سے ۔ یعنی کبھی کبھار ہی لوگوں کو بہت کم سپیڈ میں انٹر نیٹ کی خدمات حاصل ہورہی ہیں ۔ بعد میں اس بات کااعلان کیا گیا کہ گاندربل اور ادھم پور اضلاع میں 4جی نیٹ ورک شروع کیا گیا لیکن باقی اضلاع کو اس سے ابھی تک مثنثنیٰ رکھا گیا ۔ 4جی پر پابندی میں ہر دس پندرہ دنوں کے بعد توسیع کی جاتی ہے ۔تعجب کا مقام ہے کہ کشمیری عوام کو ابھی بھی 2جی کی سہولیات میسر نہیں 5جی کی بات ہی نہیں ہے ۔ ان حالات میں وزیر اعظم مودی کو چاہئے کہ جموں کشمیر میں فی الحال 4جی کی خدمات کو منظوری دیں تاکہ اس سے طلبہ اور طالبات کو حصول تعلیم میں درپیش مشکلات دور ہوسکیں اور تاجروں ،ڈاکٹروں وغیرہ کو 4جی سے مستفید ہونے کا موقعہ مل سکے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں