مقامی افسروں کی کمی انتظامیہ کیلئے لمحہ فکریہ

حق اطلاعات قانون کی درخواست پر حکومت کی طرف سے کے اے ایس کی خالی اسامیوں کے بارے میں جو تفصیلات فراہم کی گئیں ان کے مطابق اس وقت کشمیر ایڈمنسٹریٹو سروس کی 257اسامیاں خالی پڑی ہیں ۔ اس بارے میں متعلقہ محکمے نے جو مزید تفصیلات فراہم کی ہیں ان کے مطابق کے اے ایس افسروںکی منظور شدہ اسامیوں کی تعداد 1436ہے جن میں سے خالی اسامیوں کی تعداد 257ہے۔گویا اس سے یہ اندازہ لگانے میں دیر نہیں لگتی ہے کہ حکومت اس بارے میں غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی ہے ورنہ ان اسامیوں کو کب کا پورا کیاجاتا ۔ ان میں جونیر ٹایم سکیل کے افسروں کے ساتھ ساتھ سینئیر ٹایم سکیل کے افسروں کی خالی اسامیاں بھی شامل بتائی گئیں ۔ جموں کشمیر تنظیم نو ایکٹ 2019کے سیکشن89( 2)کے تحت افسروں کو یونین ٹریٹری کی الاٹمنٹ ابھی تک مکمل نہیں ہوسکی ہے تاہم اسامیوں کو لداخ کے زیر انتظام خطے کو الاٹ کردیا گیا ہے ۔ یہ بھی بتایا گیا کہ جموں کشمیر کو آئی اے ایس افسروں کی کمی کا سامنا ہے 137منظور شدہ افسروں کے برعکس صرف 62افسر ہی یہاں پر موجودہیں ۔ جن میں سے 53خدمات انجام دے رہے ہیں او ر باقی 8ڈیپوٹیشن پر ہیں ۔ آئی اے ایس کے منظور شدہ جموں کشمیر کیڈر میں 58اسی کیڈر سے تعلق رکھتے ہیں جن میں چار باہر کے کیڈر کے افسراں ہیں ۔ان ہی میں سے آٹھ مرکزی حکومت کی طرف سے ڈیپوٹیشن پر ہیں ۔ حکومت کی طرف سے جو کچھ حق اطلاعات قانون کی طرف سے پوچھے گئے سوالات کے جواب میں بتایا گیا ان سے پتہ چلتا ہے کہ جموں کشمیر میں اعلیٰ سطح پر افسروں کی کمی ہے اور اس کمی کو اسی صورت میں دور کیاجاسکتا ہے جب جموں کشمیر کیڈر کے آئی اے ایس افسروں اور کے اے ایس افسروں کی تقرریاں عمل میں لائی جاینگی ۔کلیدی عہدوں پر جہاں افسروں کو عوام کے ساتھ براہ راست رابط ہو پر غیر مقامی افسروں کی تقرریوں کا سلسلہ بند ہونا چاہئے کیونکہ جب کلیدی عہدوں پر غیر مقامی افسروں کو تعینات کیا جاتا ہے اور ان افسروں کو کشمیری عوام سے رابطہ رکھنا ہوتا ہے تو زبردست مسایل پیدا ہوتے ہیں نہ کشمیری سائیل اپنی بات غیر مقامی افسروں کو اچھی طرح سے سمجھا سکتا ہے اور نہ ہی غیر مقامی افسرکوکشمیریوں کی بات پلے پڑتی ہے ۔کلیدی عہدوں پراسلئے کشمیری افسر کی تقرری لازمی قرار دی جاسکتی ہے کیونکہ غیر مقامی افسرنہ تو زبان سے واقف ہوتا ہے نہ اسے کشمیریوں کے رسم و رواج ،ضروریات ،تہذیب و تمدن ،وغیرہ سے واقفیت ہوتی ہے نتیجے کے طور اس افسر کو خود بھی مشکلات پیش آتی ہیں اور سایل بھی اطمینان حاصل نہیں کر پاتے ہیں اسلئے عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہاں زیادہ سے زیادہ تعداد میں مقامی افسروںکوہی ایڈجسٹ کیا جانا چاہئے اور کلیدی عہدوں پر ترجیحی بنیادوں پر کشمیری افسروںکی ہی تقرریاں عمل میں لائی جانی چاہئے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں