حج کرایہ کی شرحیں اوروادی کے عازمین

 اس سال حج کے لئے درخواستیں جمع کرنے کی تاریخ 10جنوری تک بڑھادی گئی ہے جبکہ سرینگر کے عازمین حج کو اس سال تین لاکھ ساٹھ ہزار کی رقم فریضہ حج ادا کرنے کے لئے بھرنی پڑے گی ۔یہاں مرکزی حکومت کے اس فیصلے پر عوامی حلقوں میں شدید ردعمل ظاہر کیا جارہا ہے کیونکہ اس سال حج کی ادائیگی کے لئے وادی سے تعلق رکھنے والے عازمین کے لئے جو کرایہ کی شرحیں مقرر کی گئی ہیں وہ بہت زیادہ قرار دی جارہی ہیں ۔مانا کہ کووڈ کی وجہ سے دنیا بھر میں نظام زندگی متاثر ہے اور سعودی عرب بھی اس سے مثتثنیٰ نہیں لیکن کرایہ کی شرحوں میں اس قدر اضافہ ناقابل یقین بھی ہے اور ناقابل برداشت بھی قرار دیا جاسکتا ہے ۔سال 2019کے اوایل میں پوری دنیا کو کووڈ 19نے اپنی لپیٹ میں لیا ہے اور اب تک تقریباًتین چار لاکھ لوگ اس کا شکار ہوکر یہ دنیا چھوڑ چکے ہیں جبکہ اس وقت بھی کئی لاکھ ہسپتالوں اور گھروں میں اس وباسے متاثر ہوکر پڑے ہیں پوری دنیامیں کارو بار ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے ۔بھارت کی بات ہی نہیں مغربی ممالک میں بھی کوئی کام کاج نہیں ہورہا ہے ۔بڑی بڑی کمپنیاں بند ہوگئی ہیں۔سیاحت صفر تک پہنچ گئی اور پوری دنیا کی طرح ہماری وادی بھی کووڈ کی اثر میں اس طرح آگئی کہ روز دس سے بارہ تک افراد اس وباء کی زد میں آکر از جان ہورہے ہیں ہسپتال کووڈ مریضوں سے بھرے پڑے ہیں چونکہ کووڈ کی وجہ سے سیاحت ٹھپ ہوکر رہ گئی ہے اسلئے وادی میں سیاحتی سیکٹر سے وابستہ لوگ ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا بیٹھے ہیں ۔ ہوٹل والے ، ہاوس بوٹ اونرس ، شکارا والے اور دستکاری مصنوعات کا کاروبار کرنے والے اسوقت بیکار بن گئے ہیں ۔ کاروباری سرگرمیاں ٹھپ پڑی ہیں ۔ دکاندار دن بھر دکانوں پر خریدار کا منہ تک نہیں دیکھتے ہیں اور اگر کبھی کبھار خریدار نظر بھی آتا ہے تو وہ صرف چکائو دکائو تک ہی معاملہ نمٹاتا ہے ۔ان حالات میں جو لوگ دین کا یہ اہم فریضہ انجام دینے کی خواہش رکھتے ہوں ان کے لئے اب حج کی ادایئگی ناممکن بنادی گئی ہے ۔ تین لاکھ ساٹھ ہزار کوئی معمولی رقم نہیں ۔ سنا جارہا ہے کہ ابھی حکومت سعودی عربیہ نے لوگوں سے لی جانے والی کرایہ کی شرحیں پوری طرح طے نہیں کی ہیں۔ سرینگر کے ان عازمین جو عزیزیہ میں قیام کرینگے کے لئے یہ ریٹ مقرر کی گئی ہے اس کے علاوہ جو گرین یا دوسرے ہوٹلوں یا گیسٹ ہاوسوں میں قیام کرنا پسند کرینگے ان کے لئے اور زیادہ ریٹ مقررہ کرنے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا ہے اسلئے حکومت سعودی عرب کے اس فیصلے کا مرکزی وزارت حج کو انتظار ہے ۔ جن کشمیریوں نے سال 2019میں حج فارم داخل کئے تھے اور ان کو قرعہ اندازی کے ذریعے حج پر جانے کی اجازت بھی ملی تھی نے بتایا کہ انہوں نے اس وقت صرف دو لاکھ بیس ہزار کی رقم داخل کی تھی لیکن اب حکومت نے اسے اچانک تین لاکھ ساٹھ ہزار کرکے ان کی امیدوں پر پانی پھیردیا ہے ۔انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ ان کے لئے وہی رقم مقرر کی جائے جو انہوں نے گذشتہ برس داخل کی تھی ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں