کووڈ 19اور سردیوں کے ایام

یہ بات باعث تشویش ہے کہ مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس نے اس بات کی پیشن گوئی کی ہے کہ اگلے چار سے چھ مہینے تک کووڈ 19کے حوالے سے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں ۔بل گیٹس کا کہنا ہے کہ  سردیوں کے ایام میں کووڈ 19کا خطرناک چہرہ سامنے آسکتا ہے اور اس کی زد میں زیادہ سے زیادہ لوگ آینگے ۔ اس دوران انسٹی چیوٹ فار ہیلتھ میٹرکس اینڈ ایولیوشن نے اپنے ایک جائیزے میں کہا ہے کہ آنے والے ایام میں کووڈ 19سے تقریباً دو لاکھ افراد کی ہلاکت کے امکانات ہیں ۔ بل گیٹس اور متذکرہ بالا ادارے کی اگر مانیں تو یہ بات واقعی باعث تشویش ہے کہ کووڈ 19اور بھی تیزی سے پھیلنے لگے گا اس سے بچنے کے لئے صرف اور صرف احتیاط برتنے کی ضرورت ہے ۔ا س ادارے کا کہنا ہے کہ اگر لوگ فیس ماسک کا برابر استعمال کرینگے اور سماجی دوری بنائے رکھنے کے ساتھ ساتھ دوسری احتیاطی تدابیر بھی برتینگے تو ہوسکتا ہے کہ ہلاکتیں کم ہونگی لیکن جہاں تک حالات و واقعات کا تعلق ہے اور جو جائیزہ رپورٹیںآرہی ہیں ان کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ وبائی بیماری ایک بار پھر سردیوں کے ایام میں اپنا اصلی چہرہ دکھائے گی۔ بل گیٹس کا کہنا ہے کہ سال 2021کے وسط سے امریکہ اور دوسرے ممالک میں وبائی بیماری میں کمی آنا شروع ہوجائے گی تاہم یہ ختم نہیں ہوگی اسلئے کہ لوگ ابھی تک اس کی خصلت کو محسوس نہیں کر پائے ہیں اسلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگ اسی طرح احتیاط برتیں جس طرح پہلے برت رہے تھے ۔ بل گیٹس کا مزید کہنا تھا کہ اگلے برس کے آخری ایام سے یہ وبائی بیماری آہستہ آہستہ فنا کی اور جائے گی اور ہوسکتا ہے کہ سال 2022کے وسط تک یہ پوری طرح ختم ہوجائے گی اور لوگ راحت محسوس کرینگے ۔ جہاں تک بل گیٹس اور عالمی ادارے کا تعلق ہے تو یہ بات یقینی ہے کہ سردیوں کے ایام میں کووڈ 19بھیانک روپ اختیار کرسکتا ہے ۔ اسلئے لوگوں کو زبردست احتیاط برتنے کی ضرورت ہے خاص طور پر ان لوگوں کو جو پہلے ہی ہائیپر ٹینشن،عارضہ قلب ، ڈیپریشن ، ذیا بطیس وغیرہ میں مبتلا ہونگے ان کو کسی بھی صورت میں احتیاطی تدابیر کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے ۔ ان کے لئے لازم ہے کہ جہاں فیس ماسک کا مسلسل استعما ل کرتے رہیں تو دوسری جانب انہیں بھیڑ بھاڑ والے مقامات ،شادی بیاہ کی تقریبات یا ماتمی مجالس وغیرہ جہاں بہت زیادہ لوگ جمع ہوں میں جانے سے اجتناب کریں۔دوسرے صحت مند لوگوں کے لئے اسی طرح کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں ۔انہیں بھی اس معاملے میں غفلت شعاری کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے ۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگر کوئی اس بیماری میں ایک بار مبتلا ہوگا تو اسے یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ وہ دوسری بار اس میں مبتلا نہیں ہوگا یہ غلط ہے ۔ جہاں تک ویکسین کا تعلق ہے تو اس بارے میں متذکرہ بالا ادارے کا کہنا ہے کہ امیر ملکوں میں غریب اور ترقی پذیر ملکوں کے مقابلے میں یہ ویکسین آسانی سے دستیاب ہوسکتا ہے اسلئے کووڈ 19جیسی مہلک بیماری سے بچنے کے لئے صرف اور صرف احتیاط لازمی ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں