سپریم کورٹ ایمرجنسی کے جواز سے متعلق - عرضی کے چند نقاط پر سماعت کیلئے رضامند

نئی دہلی، 14 دسمبر (یو این آئی) سپریم کورٹ نے 1975 کی ایمرجنسی کو غیر آئینی قرار دینے سے متعلق درخواست کے چندمحدود نقطوں پر غور کرنے پر پیر کے روز رضامندی ظاہر کی۔ جسٹس سنجے کشن کول، جسٹس دنیش مہیشوری اور جسٹس رشیکیش رائے پر مشتمل ڈویژن بنچ نے 94 سالہ بیوہ کی درخواست پر مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا اور درخواست گزار کی اپنی عرضی میں ترمیم کرنے کی اجازت دی۔ عدالت عظمی نے کہا کہ وہ اس نقطے پر غور کرے گی کہ کیا اتنے لمبے عرصے کے بعد بھی عدالت ایمرجنسی کے اعلان کے جواز کی جانچ کرسکتی ہے ؟ درخواست گزار نے 1975 کی ایمرجنسی کو غیر آئینی قرار دینے اور اس میں حصہ لینے والے حکام سے بطور معاوضہ 25 کروڑ فراہم کیے جانے کے لئے عدالت عظمی سے رجوع کیا۔ عدالت عظمی نے اس درخواست پر مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا۔ درخواست گزار کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر ایڈوکیٹ ہریش سالوے نے دلیل دی کہ عدالت عظمی کو ایمرجنسی کے اعلان کے جواز کی جانچ کرنے کا اختیار ہے ۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی جمہوریت کی تاریخ درج سب سے سیاہ باب 'ایمرجنسی' کے دوران حکام کے ہاتھوں مظالم کا نشانہ بننے والے اس درخواست گزار کو اب تک راحت فراہم نہیں کی جاسکی ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں