نئے زراعتی قوانین کو منسوخ کرنے سے ہی کسانوں کی تحریک کا حل نکل آئے گا:کانگریس

نئی دہلی، 14 دسمبر (یو این آئی) کانگریس نے کہا ہے کہ مودی حکومت احتجاجی کسانوں کے ساتھ بات چیت کا بہانہ کرکے کسانوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہی ہے ، جبکہ اسے بھی معلوم ہے کہ کسانوں کی تحریک کا حل زراعت سے متعلق تینوں نئے قوانین کی منسوخی میں ہی ہے ۔ پارٹی نے پیر کے اپنے آفیشل پیج پر ٹویٹ کیا کہ "آج بی جے پی کی سلطنت 'ان داتا' (کسانوں) کے ساتھ دھوکہ کر رہی ہے ۔ وہ بات چیت کا بہانہ بھی کررہی ہے اور کسانوں کو بدنام بھی کررہی ہے جبکہ اس کا حل کالے قوانین کے منسوخ کرنے میں ہی ہے "۔کانگریس نے مزید کہا کہ " ان تینوں قوانین کو لانے والی بی جے پی کا سب سے بڑا جرم یہ ہے وہ اپنی دوستوں کی وفاداری میں ڈوب کر کسانوں سے بات چیت کیے بغیر کالے قوانین بنانے کا کام کیا ہے ۔سادہ سی بات ہے کہ جب ان قوانین میں کسانوں کی بات ہی نہیں ہے تو پھر ان قوانین سے کسان کیسے فائدہ اٹھا سکتے ہیں"۔پارٹی کا کہنا ہے کہ کم سے کم سپورٹ پرائس (ایم ایس پی) میں اضافے کے نام پر بی جے پی کی فریب دہی کا سچ کسانوں کو پتہ چل گیا ہے ۔بی جے پی کاشتکاروں کی تذلیل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے اور یہ غلط حرکتیں صرف اس وجہ سے کی گئیں ہیں کہ کسانوں نے بی جے پی سلطنت کے کالے قوانین کو ماننے سے انکار کردیا ہے اور اپنے حقوق کے لئے متحد ہوکر آواز بلند کی ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں