بھارت میں ڈبل میوٹنٹ زیادہ مہلک۔ عالمی ادارہ صحت

ملک میں بڑھ رہے کورونا وائرس انفیکشن کے معاملات کی وجہ سے صورتحال تشویشناک ہے۔ اس درمیان عالمی صحت تنظیم ( ڈبلیو ایچ او) کی سینئر سائنٹسٹ نے ہندوستان میں بڑھ رہے کورونا معاملات کو لے کر رد عمل ظاہر کیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کی چیف سائنٹسٹ ڈاکٹر سومیا سوامیناتھن نے کہا کہ ہندوستانی ڈبل میوٹینٹ کورونا وائرس زیادہ متعدی ہے۔ڈاکٹر سومیا سوامیناتھن نے پیر کو کہا کہ ایک ابتدائی اعداد و شمار سے پتہ چلا ہے کہ ہندوستان ڈبل میوٹینٹ زیادہ متعدی ہے ، جس سے ملک میں انفیکشن کے معاملات میں اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے اس دوران لوگوں سے کورونا ویکسین لگانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکہ کاری اہم ہے کیونکہ یہ کورونا وائرس کی سنگینی کو کم کرے گا۔سی این بی سی ٹی وی 18 کو دئے ایک انٹرویو میں سوامیناتھن نے کہا کہ ڈبل میوٹیشن اسٹرین میں برازیل اور جنوبی افریقہ میں پائے جانے والے ویریئنٹ شامل ہیں اور یہ جسم کی قوت مدافعت کیلئے سمجھ نہیں آتا ہے اور بچ نکلتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں کورونا کیس میں اضافہ زیادہ خطرناک ویریئنٹ کے ابھرنے کے اندیشہ کو بڑھاتا ہے۔ ابتدائی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہندوستانی ویریئنٹ زیادہ متعدی ہے۔ ڈبلیو ایچ او ہندوستان میں معاملات اور اموات کی تعداد کو لے کر فکرمند ہے۔ عالمی سطح پر کورونا معاملات اور اموات کی صورتحال مستحکم ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں