نیونو یوریا جموں کشمیر کے کاشتکاری کے شعبے میں نیا انقلاب لائے گی ۔ لیفٹیننٹ گورنر


جموں کشمیر کے لئے گجرات سے نینو یوریا کی پہلی کھیپ کو ورچیول موڈ سے ہری جھنڈی دکھائی
سرینگر/ لیفٹیننٹ گورنر نے جموں کشمیر میں شعبہ ذراعت میں ماحول دوست کاشتکاری کے طریقوں میں جدت لانے کےلئے آج ورچیل موڈ کے زریعہ گجرات کے علاقہ کالول سے IFFCOکی نینو یوریا کی پہلی کھیپ کو ہر جھنڈی دکھائی ۔ انہوںنے کہا کہ میں گذشتہ کئی سالوں سے یوریا کے استعمال کو کم کرنے کے لئے زرعی سائنسدانوں اور کسانوں کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی کا دلی شکریہ ادا کرتا ہوں۔ لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا کہ ان کے وژن نے اسے حقیقی شکل دی جس سے جموں کشمیر میں بھی زرعی شعبہ میں اصلاحات لائی جائیں گی ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے ڈاکٹر یو ایس اوستھی ، منیجنگ ڈائریکٹر ، (انڈین فارمرس فرٹیلائزر کوآپریٹو لمیٹڈ) IFFCOاور ان کی پوری ٹیم کے ممبروں کو دنیا کا پہلا ما نینو یوریا تیار کرنے پر بھی مبارکباد پیش کی جو فصلوں کی پیداوار میں اضافہ کرے گا ، فصلوں کو موسمی نقصان سے بچائے گا جبکہ مٹی کے معیار کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہو گا۔ ایل جی موصوف نے اس موقعے پر کہا کہ تاریخی اقدام کا مقصد ماحولیات کو بچانا اور زرعی کھیتوں کی مٹی کو زرخیز رکھنا ہے۔نینو یوریا کی 15000بوتلیں جموں کشمیر کے کسانوں کے لئے گجرات کے کالول سے روانہ ہورہی ہیں۔ ان میں 7500بوتلیں جموں ڈویژن اور 7500کشمیر ڈویژن کے کسانوں میں تقسیم کی جائیں گی ۔ نینو یوریا کی مجموعی کھیپ روایتی یوریا کے 675 میٹرک ٹن کے برابر ہوگی۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ جموں کشمیر میں زراعت شعبہ میں کافی دائرہ ہے جس کو وسعت دینے کی ضرورت ہے ۔ انہوںنے کہا کہ کسانوں میں نینو یوریا متعارف ہونے سے جموں کشمیر کے زراعت کے شعبے جدت لانے میں مدد ملے گی ۔ انہوںنے کہا کہ وزیر اعظم کی خود انحصاری کےلئے مہم کے تحت جموں وکشمیر میں ، روایتی زراعت ، باغبانی کے فروغ کے ساتھ ساتھ ویلیو ایڈیشن فارمنگ پر بھی زور دیا جارہا ہے تاکہ کاشتکاروں کو اپنی فصلوں کی مناسب قیمت مل سکے۔ ایل جی نے کہا کہ یہاں کی 70فیصد آبادی زراعت پر منحصر ہے اور نینو یوریا خطے کی کاشتکاری کے شعبے میں ایک نیا انقلاب لاسکتی ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں