جموں کشمیر میں حد بندی کمیشن نے اپنی سرگرمیاں پھر تیز کردی

تمام 20ضلع کمشنروں کو انتخابی حلقہ جات اور حلقہ بندیوں کی تفاصیل کی طلب
 جموں و کشمیر کے اسمبلی حلقوں کی حد بندی کے عمل کو تیز کردیا گیا ہے۔کمیشن نے جموں کشمیر کے تمام 20اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کے نام خطوط ارسال کئے جس میں ان سے اسمبلی حلقہ جات اور ڈپو گرافی کا ڈیٹا طلب کیا گیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق جموں کشمیر کو ریاست کا درجہ یا سٹیٹ ہڈ دینے سے پہلے مرکزی سرکار انتخابات کرارہی ہے اس سلسلے میں جو مجوزہ حد بندی کا عمل کووڈ کی وجہ سے تعطل کا شکار ہوچکا تھا اب اس کو دوبارہ بحال کردیا گیا ہے ۔ اس سلسلے میں سپریم کورٹ کے سابق جسٹس رنجن پرکاش حد بندی کمیشن کا چیرمین مقرر کیا جاچکا ہے اور ان کی سربراہی میں ہی کمیشن کام کررہا ہے ۔ ادھر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ حد بندی کمیشن کے عمل کو پوراکرنے کےلئے چیرمین نے جموں کشمیر کے تمام 20اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کو خط ارسال کیا ہے جن سے اپنے اپنے اضلاع کی حدود میں آنےوالی اسمبلی نشستوں کی تفصیلات اور دیگر تفاصیل طلب کی گئی ہے ۔ حد بندی کمیشن کی ایک سالہ مدت مارچ 2021 میں ختم ہوگئی تھی اور مرکزی وزارت قانون و انصاف نے مزید ایک سال میں توسیع کردی تھی۔ایک الیکشن کمشنر اور ریاستی الیکشن کمشنر (ایس ای سی) کے کے شرما دلی میں کمیشن کے دو دیگر سرکاری ممبر ہیں جبکہ جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے پانچ لوک سبھا ممبران اس کے ایسوسی ایٹ ممبر ہیں۔ ان میں وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) میں مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ اور جگل کشور شرما (دونوں بی جے پی) ، ڈاکٹر فاروق عبد اللہ ، محمد اکبر لون اور حسنین مسعودی (تمام نیشنل کانفرنس) شامل ہیں۔ذرائع نے بتایا ہے کہ کمیشن اپنے ممبران کی میٹنگ بھی جلد طلب کرسکتا ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں