امریکی فوجیوں کی واپسی افغانستان کی جیت

 امریکہ اور دنیا کے ساتھ چاہتے ہیں اچھے تعلقات: طالبان

افغانستان میں 20 سال بعد امریکی فوجیوں کی مکمل واپسی ہوگئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی طالبان کی نئی اننگ بھی شروع ہوگئی ہے۔ اس درمیان طالبان نے امریکہ اور دنیا کے باقی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات بنانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے منگل کو کابل ایئر پورٹ کے رنوے پر پریس کانفرنس کی۔اس دوران ذبیح اللہ مجاہد نے افغانیوں کو آزادی کی مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا، ’اس جیت کے لئے افغانستان کو مبارکباد... یہ جیت ہم سبھی کی جیت ہے۔ افغانیوں کی جیت ہے‘۔ ذبیح اللہ مجاہد نے مزید کہا، ’ہم امریکہ اور باقی دنیا کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں، ہم سبھی ممالک کے ساتھ اچھے سفارتی تعلقات کا استقبال کریں گے‘۔کابل ایئر پورٹ سے پیر کی دیر شب امریکی فوجی کی واپسی کے بعد طالبان کے مبینہ جنگجووں نے جم کر جشن منایا۔ قطر میں طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا کہ اب ہمارا ملک پوری طرح سے آزاد ہے اور ملک کے باشندوں کو بہت بہت مبارکباد۔سہیل شاہین نے پیر کی شب ٹوئٹ کرکے کہا، ’گزشتہ رات 12 بجے (افغانستان کے نیوز کے مطابق، آخری امریکی فوجی افغانستان سے لوٹ گیا۔ ہمارے ملک کو پوری آزادی مل گئی ہے۔ اللہ کا شکر ہے۔ سبھی ملک کے باشندوں کو دلی مبارکباد‘۔ اسی کے ساتھ ہی اب پنجشیر وادی کو چھوڑ کر پورے افغانستان پر طالبان کا پورا کنٹرول ہوگیا ہے۔کابل ایئر پورٹ سے پیر کی دیر شب امریکی فوجی کی واپسی کے بعد طالبان کے مبینہ جنگجووں نے جم کر جشن منایا۔کابل ایئر پورٹ سے پیر کی دیر شب امریکی فوجی کی واپسی کے بعد طالبان کے مبینہ جنگجووں نے جم کر جشن منایا۔82 ویں ایئر بورن ڈویڑن کے کمانڈر میجر جنرل کرس ڈان ہیوئے کابل چھوڑنے والے آخری امریکی فوجی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ کابل ایئر پورٹ پر موجود پلین پر ان کے سوار ہونے کے بعد امریکہ کی افغانستان سے واپسی کا عمل مکمل ہوگیا تھا۔ یو ایس سینٹرل کمانڈ کی طرف سے جاری تصویر میں کمانڈر جنرل کرس ڈان ہیوئے پلین میں چڑھتے ہوئے نظرآرہے ہیں۔ اس طیارہ میں افغانستان میں امریکہ کے سفیر راس ولسن بھی موجود تھے۔ 11 ستمبر 2001 کے دہشت گردانہ حملوں کے کچھ ہی وقت بعد افغانستان میں شروع ہوئے امریکی مشن کا خاتمہ ہوگیا ہے۔طالبانی جہاں پورے ملک میں جشن منا رہے ہیں، وہیں راجدھانی کابل کی سڑکوں پر خاموشی چھائی ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، طالبان کے لئے یہ ایک تاریخی جیت ہے۔ طالبان نے ہمیشہ سے ہی افغانستان میں غیر ملکی افواج کے خلاف اپنی لڑائی کے بارے میں بیان دیا ہے۔ وہ اسے اپنی خودمختاری کے خلاف بتا رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوجیوں کے افغانستان سے چلے جانے کے بعد اب ملک کے نئے حکمرانوں کو کئی سوالوں کا جواب دینا ہوگا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں