ڈی آر پی ایس سی آئی نے پی ایم اِی جی پی سکیم کی عمل آوری پر میٹنگیں منعقد کیں


محکمہ سے متعلقہ پارلیمانی قائمہ کمیٹی برائے صنعت ( ڈی آر پی ایس سی آئی ) جو وادی کے دو روزہ سٹیڈی دورے پر ہے ، نے پنجاب نیشنل بینک ، سینٹرل بینک اور جے اینڈ کے بینک اور این ایچ پی سی کے نمائندوں ، پاور گریڈ کارپوریشن ،آئی او سی ایل کے نمائندوں کے ساتھ جموں وکشمیر قانون ساز اَسمبلی سری نگر میں الگ الگ میٹنگیں کیں ۔پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی سربراہی اِس کے چیئرمین ڈاکٹر کے کیشوار اﺅ رُکن پارلیمنٹ نے کی۔کمیٹی نے وزیر اعظم ایمپلائمنٹ جنریشن پروگرام ( پی ایم ای جی پی ) کی عمل آوری پر تبادلہ خیال کیا جو کہ مائیکرو سمال میڈیم اَنٹرپرائز ( ایم ایس ایم اِی ) کی فلیگ شپ سکیم ہے ۔اِس سکیم کو کے وِی آئی سی نے نافذ کیا ہے جو کہ قومی سطح پر نوڈل ایجنسی ہے۔اِبتداً بینکوں کے سربراہان نے اَپنے بینکوں کی موجودہ صورتحال اور حاصل کردہ اہداف کے بارے میں پرزنٹیشن پیش کی۔پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی نے پی ایم اِی جی پی کی مو¿ثر عمل آوری ،اِس کی تشخیص اور نگرانی کے طریقہ¿ کار کے علاوہ مالیاتی اِداروں ، نوڈل ایجنسیوں ، سٹیٹ حکومتوں کے کردار پر تبادلہ خیال کیا۔ اس نے 2020-21 ءکے دوران پی ایم اِی جی پی کے تحت نئے پروجیکٹوں کے قیا م کے لئے معاون یونٹوں کے بارے میں بھی غورہوا۔کمیٹی نے پی ایم اِی جی پی کے تحت قائم کردہ منصوبوں پر جموں وکشمیر میں کووِڈ۔19 وَبائی اَمراض کے اَثرات کے بارے میں جانکاری حاصل کی۔دورانِ میٹنگوں کمیٹی نے مختلف مشاہدات کئے اور مالیاتی اِداروں کو مائیکرو سمال میڈیم اَنٹرپرائز ( ایم ایس ایم اِی) کے تحت وزیر اعظم کے روزگار پیدا کنرے کے پروگرام کے حوالے سے سفارشات بھی دیں۔کمیٹی نے این ایچ پی سی ، پاور گرڈ کارپوریشن ، آئی او سی ایل اور بجلی ، پیٹرولیم اور قدرتی گیس کے وزراءاور دیگر اَفسران کے ساتھ میٹنگ منعقد کی اور دوران میٹنگ کمیٹی نے پبلک پروکیورمنٹ پالیسی کے تحت پی ایس ای سے ایم ایس ای سے 25 فیصد پروکیورمنٹ کی صورت حال پر تبادلہ خیال ہوا۔اِس موقعہ پر پاور گرڈ کارپوریشن اور آئی او سی ایل کے نمائندوں نے موجودہ صورتحال اور اب تک حاصل کردہ اہداف کے بارے میں تفصیلی پریزنٹیشن دی۔کمیٹی نے پی ایس ای کی جانب سے ایم ایس ایم ای کو پی ایس ای کی ضرورت کو ممکن بنانے کے قابل بنانے کی خاطر وینڈر ڈیولپمنٹ پروگرام کے انعقاد کے لئے اُٹھائے گئے اِقدامات پر مزید تبادلہ خیال کیا۔بعد میںپارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی نے کے وی آئی بی کے کاروباریوں سے بات چیت کی جنہوں نے اپنی مصنوعات کو اسمبلی کمپلیکس کے اندر ڈسپلے کیا اور مصنوعات کے معیار کا جائزہ لیا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں