افغانستان کے لوگوں کی فلاح و بہبودی بھارت کی ہمیشہ ترجیحات میں رہی ہے

 افغان سرزمین شدت پسندوں کو پناہ دینے یا کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں کی جانی چاہیے/ تیر و مورتی

افغانستان کے لوگوں کی فلاح و بہبودی بھارت کی ہمیشہ ترجیحات میں رہی ہے کی بات کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں اقوام متحدہ میں بھارت کے مستقل نمائندے ٹی ایس تیرومورتی نے کہا کہ افغان سرزمین کسی ملک کو دھمکی دینے یا حملہ کرنے، شدت پسندوں کو پناہ دینے یا تربیت دینے یا شدت پسند کارروائیوں کی منصوبہ بندی یا مالی اعانت کے لیے استعمال نہیں کی جانی چاہیے۔ مانیٹرنگ کے مطابق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے تیرومورتی نے مزید کہا 'ہم امید کرتے ہیں کہ افغانوں اور تمام غیر ملکیوں کے افغانستان سے محفوظ اور منظم طریقے سے روانگی کے حوالے سے کیے گئے وعدوں پر عمل کیا جائے گا۔'انہوں نے اس بات کا بھی اظہار کیا کہ بھارت نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران افغانستان کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ جس میں بجلی، پانی کی فراہمی، سڑک کنیکٹوٹی، صحت، تعلیم اور زراعت کے اہم شعبے شامل ہیں۔تیرومورتی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے اپنے خطاب کے دوران بتایا کہ بھارت کا زور افغانستان کے لوگوں کی فلاح و بہبود پر رہا ہے۔ بھارت نے افغانستان کے 34 صوبوں میں سے ہر ایک میں 500 سے زیادہ ترقیاتی منصوبے شروع کیے ہیں۔ ہم نے پچھلے سال افغانستان کو 75،000 میٹرک ٹن گندم کی ترسیل کے ذریعے انسانی امداد بھی فراہم کی

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں