خانیار سرینگر میں بندوق بردار نمودار ، پولیس آفیسر پر نزدیک سے گولیاں چلاکر ابدی نیند سلا دیا


بروٹ راجوری کے جنگلات میں جنگجوﺅں اور سیکورٹی فورسز کے مابین فائرنگ کا تبادلہ ، آپریشن جاری

سخت ترین سیکورٹی حصار کے بیچ شہر سرینگر کے خانیار علاقے میں دن دھاڑے مسلح جنگجوﺅں نے پولیس سب انسپکٹر پر نزدیک سے گولیاں چلا کر اسکو ابدی نیند سلا دیا ۔ ادھر راجوری کے بروٹ نامی علاقے کے جنگلات میں جنگجوﺅں اور سیکورٹی فورسز کے مابین مسلح جھڑپ جاری ہے ۔ اطلاعات کے مطابق شہر سرینگر کے خانیار علاقے میں اتوار کے بعد دوپہر اس وقت افراتفری کا ماحول پھیل گیا جب مسلح جنگجوﺅں نے پولیس سب انسپکٹر کو نشانہ بنا کر نزدیکی سے گولیاں چلائی ۔ معلوم ہوا ہے کہ گولیاں لگنے کے ساتھ ہی پولیس سب انسپکٹر وہی خون میں لت پت گر پڑا ۔حملے کے ساتھ ہی پولیس و سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری علاقے میں پہنچ گئی جنہوںنے وہاں ایک پولیس سب انسپکٹر کو خون میںلت پت پایا جس کے بعد انہیںعلاج و معالجہ کیلئے صدر اسپتال سرینگر منتقل کر دیا گیا ۔ زخمی پولیس سب انسپکٹر کی شناخت ارشید احمد کے بطور ہوئی ہے کو اسپتال پہنچایا گیا جہاں کچھ دیر تک وہ موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد موت کی آغوش میں چلا گیا ۔ ادھر حملے کے ساتھ ہی پولیس و سیکورٹی فورسز نے پورے علاقے کو محاصرے میںلیکر تلاشی کارورائی شروع کردی تاہم آخری اطلاعات ملنے تک کسی کی گرفتاری عمل میں نہیںلائی گئیں ہے ۔ پولیس کے ایک سنیئر آفیسر نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جنگجوﺅں نے خانیار سرینگر میںپولیس آفیسر کو کو نشانہ بنا کر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہو گیا ۔ انہوں نے بتایا کہ زخمی سب انسپکٹر کو علاج کیلئے اسپتال منتقل کر دیا گیا تاہم وہ اسپتا ل میںزندگی کی جنگ ہار گیا ۔ انہوں نے بتایا کہ حملہ آوروں کی تلاش بڑے پیمانے پر جاری ہے ۔ ادھر راجوری سے نمائندے نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ بروٹ گاﺅں کے نزدیکی جنگلات میں مسلح جنگجوﺅںکی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد فوج ، سی آر پی ایف اور جموں کشمیر پولیس نے علاقے کو محاصرے میں لیا ۔ پولیس ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جونہی علاقے میں تلاشی آپریشن شروع کر دیا گیا تو وہاں موجود جنگجوﺅں نے فرار ہونے کی کوشش میں شدید فائرنگ کی ۔پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ فائرنگ کے ساتھ ہی سیکورٹی فورسز نے بھی مورچہ زن ہو کر جوابی کارورائی کی جس دورا ن طرفین کے مابین گولیوں کے تبادلہ ہوا ۔ انہوں نے بتایا کہ جنگلات میںگولیوں کے تبادلے کے بعد اگرچہ فائرنگ رک گئی تاہم فوج و سیکورٹی فورسز کو خدشہ ہے کہ جنگجو گھنے جنگلات میں چھپے بیٹھے ہیںجن کو ڈھونڈ نکالنے کیلئے آپریشن جاری ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں