نوکری ہی نہیں ہے تو کیا سنڈے، کیا منڈے؟

 بی جے پی حکومت کے ’وکاس‘ پر راہل گاندھی کا طنز



  راہل گاندھی نے اتوار کے روز ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا، ”بی جے پی حکومت کا وکاس ایسا کہ اتوار-سوموار کا فرق ہی ختم کر دیا...نوکری ہی نہیں ہے تو کیا سنڈے، کیا منڈے؟“کرنٹ نیوز آف انڈیا مانیٹرنگ کے مطابق کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے ملک میں نوکریوں کی صورت حال کے حوالہ سے مرکز کی نریندر مودی حکومت پر پھر حملہ بولا ہے۔ راہل گاندھی نے ٹوئٹ کر کے کہا کہ جس کسی کے پاس نوکری ہی نہیں ہے تو پھر اس کے لئے کیا اتوار اور کیا سوموار؟ راہل گاندھی نے کہا کہ بی جے پی حکومت کا ترقی کا ماڈل ہی ایسا ہے کہ اتوار اور سوموار کا فرق ہی ختم کر دیا۔راہل گاندھی نے اتوار کے روز ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا، ”بی جے پی حکومت کا وکاس ایسا کہ اتوار-سوموار کا فرق ہی ختم کر دیا...نوکری ہی نہیں ہے تو کیا سنڈے، کیا منڈے؟“دراصل، راہل گاندھی نے اس خبر پر رد عمل ظاہر کیا ہے جس میں امریکی آٹو کمپنی فورڈ نے ہندوستانی بازار سے اپنا کاروبار سمیٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے پہلے کچھ سالوں میں دوسری آٹو کمپناں مثلاً فیاٹ، مان اور جنرل موٹرس بھی اپنا دھندہ بند کر چکی ہیں۔راہل گاندھی نے جس خبر پر رد عمل ظاہر کیا ہے اس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فورڈ کمپنی کی جانب سے ہندوستان میں اپنا کاروبار سمیٹنے سے 4 ہزار چھوٹی بڑی کمپناں متاثر ہو سکتی ہیں اور بہت سے لوگوں کی نوکریاں خطرے میں آ جائیں گی۔اس سے پہلے 10 ستمبر کو قومی شماریاتی دفتر کی جانب سے جاری کئے گئے بیروزگاری کے اعداد و شمار پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ مودی حکومت نے ملک کا وکاس کر کے اسے ایک آتم نربھر اندھیر نگری بنا دیا ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں