راجوری کے بروٹ جنگلات میں مختصر گولیوں کے تبادلے میں فوجی اہلکار کے زخمی ہونے کے ما بعد

دوسرے روز بھی تلاشی آپریشن جاری رہا ، چھپے بیٹھے جنگجوﺅںکو ڈھونڈ نکالنے کیلئے سونگھنے والے کتوں کا استعمال

راجوری کے بروٹ نامی جنگلات میں جنگجوﺅں اور سیکورٹی فورسز کے مابین مسلح جھڑپ میں فوجی اہلکار کے زخمی ہونے کے بعد سوموار کو دوسرے روز بھی تلاشی آپریشن جاری رہا تاہم کہیں سے بھی جنگجوﺅں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان آمنا سامنا نہیںہوا ۔  کو راجوری سے نمائندے نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ بروٹ گاﺅں کے نزدیکی جنگلات میںاتوار کی صبح مسلح جنگجوﺅںکی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد فوج ، سی آر پی ایف اور جموں کشمیر پولیس نے علاقے کو محاصرے میں لیا ۔ پولیس ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جونہی علاقے میں تلاشی آپریشن شروع کر دیا گیا تو وہاں موجود جنگجوﺅں نے فرار ہونے کی کوشش میں شدید فائرنگ کی ۔پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ فائرنگ کے ساتھ ہی سیکورٹی فورسز نے بھی مورچہ زن ہو کر جوابی کارورائی کی جس دورا ن طرفین کے مابین گولیوں کے تبادلہ ہوا ۔دفاعی ذرائع کے مطابق ابتدائی فائرنگ کے نتیجے میں ایک فوجی اہلکار زخمی ہو گیا جس کو علاج و معالجہ کیلئے اسپتال منتقل کر دیا گیا جبکہ ابتدائی فائرنگ کے ساتھ ہی جنگلات میں خاموشی چھا گئی اور کہیں سے بھی دوبارہ گولیاں چلنے کی آواز نہیں سنی دی ۔ ذرائع کے مطابق اتوار کی شام دیر گئے اندھیرا چھا جانے کے بعد جنگلات میں تلاشی آپریشن بند کر دیا گیا جبکہ سوموار کی صبح ایک مرتبہ پھر جنگلات میں تلاشی آپریشن شروع کر دیا گیا جو دن بھر جاری رہا تاہم کہیں سے بھی دوبارہ جنگجوﺅں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان آمنا سامنا نہیں ہوا ۔ پولیس کے ایک سنیئر آفیسر نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اتورا کے روز راجوری کے جنگلات میں مختصر گولیوں کے تبادلے میں فوجی اہلکار زخمی ہو گیا تھا جس کے بعد علاقے میںخاموشی چھا گئی ۔ انہوں نے بتایا کہ فوج کو خدشہ ہے کہ جنگلات میں جنگجوﺅں چھپے بیٹھے ہیں جن کو ڈھونڈنکالنے کیلئے تلاشی آپریشن جاری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تلاشی آپریشن میں خصوصی سونگنے والے کتوںکا بھی سہار ا لیا گیا ہے تاہم ابھی تک کسی بھی جگہ سے دوبارہ جنگجوﺅں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان دوبارہ آمنا سامنا نہیںہوا ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں