پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کیلئے طویل سفرطے کیا، کلارک - فیکا ورلڈ الیون کے دورے کیلئے سیکورٹی انتظامات سے مطمئن - فاف ڈپلوسیسی کی قیادت میں چودہ رکنی ورلڈ الیون لاہور پہنچ گئی ،12 13, اور 15ستمبر کومیچ کھیلے جائیں گے

لاہور/انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ﴿آئی سی سی﴾ کے ڈائریکٹر جائلز کلارک نے کہا ہے کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کے لیے طویل سفرطے کرنا پڑا۔پی سی بی اوررمیزراجا کی کوششوں سے پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ بحال ہورہی ہے۔لاہور میں چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈنجم سیٹھی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب میں جائلز کلارک کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت اور عوام نے زبردست قدم اٹھایا ہے۔جائلز کلارک نے کہا کہ میں یہ کہوں گاکہ پاکستان میں کرکٹ بحالی پرلوگ بہت خوش ہیں،اینڈی فلاور کومبارکباد پیش کرتا ہوں ان کے بغیر یہ ممکن نہیں تھا،پی ایس ایل فائنل لاہور میں نہ ہوتا تو موجودہ دورہ اتنا آسان نہ ہوتا۔آئی سی سی ڈائریکٹر نے کہا کہ ہم 2011سے پاکستان میں سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لے رہے تھے،ہماری نظریں اس سیریز پر ہیں،میں پاکستانی حکومت اور خاص طور پر سیکورٹی اداروں کا شکر گزار ہوں۔انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کا بھی شکریہ ادا کیا۔کلاک نے کہا کہ مختلف ممالک سے آئی سیکورٹی ٹیموں نے پی ایس فائنل میں انتظامات دیکھے،ان کی رپورٹ پر ہی ورلڈالیون کے پاکستان آنے کے دروازے کھلے ہیں۔دریں اثناپاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ فیڈریشن آف انٹرنیشنل کرکٹرز ایسو سی ایشن نے پاکستان میں ورلڈ الیون کے خلاف سیریز کیلئے سیکیورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور فیکا حکا م ورلڈ الیون کے ساتھ سیریز کامیابی کے ساتھ ختم ہونے کیلئے پر امید ہیں۔ نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ ورلڈ الیون کو فول پروف سیکورٹی اور بھرپور سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ میچوں کیلئے تمام انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں۔ادھرجنوبی افریقہ کے فاف ڈپلوسیسی کی قیادت میں چودہ رکنی ورلڈ الیون اتوار اور پیر کی درمیانی شب لاہور پہنچ گئی ہے۔ٹیم کے ایک کھلاڑی سیموئل بدری کیربیئن لیگ میں مصروف ہونے کی وجہ سے ٹیم کے ساتھ نہیں پہنچے وہ پیر کی صبح لاہور پہنچیں گے۔یہ ٹیم پاکستان کے خلاف لاہور میں بارہ تیرہ اور پندرہ ستمبر کو تین ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کھیلے گی۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق ٹیم کے لاہور پہنچنے پر ایئرپورٹ اور پھر ٹیم ہوٹل میں میڈیا کو کوریج کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے خود متعلقہ وڈیوز اور تصاویر میڈیا کو جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ورلڈ الیون کے اس مختصر دورے کو پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کے ضمن میں انتہائی اہمیت دی جارہی ہے کیونکہ اس دورے کی کامیابی کی صورت میں سری لنکا نے آئندہ ماہ پاکستان آکر ایک ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیلنے پر آمادگی ظاہر کی ہے جبکہ ویسٹ انڈیز کا نومبر میں تین ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیلنے کے لیے لاہور آنا بھی سکیورٹی کی تسلی بخش صورتحال پر مشروط ہے۔ورلڈ الیون کے دورے کے سلسلے میں لاہور میں انتہائی سخت سکیورٹی کے انتظامات کیے گئے ہیں۔آئی سی سی کی منظور شدہ سکیورٹی کمپنی کے حکام پہلے ہی سے لاہور میں موجود ہیں اور پنجاب حکومت کے ساتھ مل کر سکیورٹی کے انتظامات کو موثر بنانے میں لگے ہوئے ہیں۔پاکستان کے دورے پر آنے والی ورلڈ الیون ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے: فاف ڈپلوسیسی ﴿کپتان﴾، ہاشم آملا، مورنی مورکلت ڈیوڈ ملر، عمران طاہر، تمیم اقبال۔ تشارا پریرا، ڈیرن سیمی، سیموئل بدری، پال کالنگ ووڈ، جارج بیلی، بین کٹنگ، ٹم پین اور گرانٹ ایلیٹ۔اس سیریز کے لیے اعلان کردہ سولہ رکنی پاکستانی ٹیم میں سرفراز احمد ﴿کپتان﴾، فخرزمان، احمد شہزاد، بابراعظم، شعیب ملک، عمرامین، عماد وسیم، شاداب خان، محمد عامر، سہیل خان، محمد نواز، حسن علی، فہیم اشرف، رومان رئیس، عامر یامین اور عثمان شنواری شامل ہیں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں