دربار موئو اور وادی کےعوام کو درپیش مشکلات

 اس ہفتے کے آخر پر سرینگر میں سیکریٹریٹ چھ ماہ کیلئے بند ہوکر جموں میں کھلے گا۔ اس سے قبل ان ہی کالموں میں ریاستی حکومت کی توجہ اس کی طرف مبذول کروائی گئی تھی کہ دربار موئو ریاست کی اقتصادیات کیلئے سفید ہاتھی ثابت ہورہا ہے کیونکہ یہ ایک فضول عمل ہے جس سے صرف وقت اور پیسہ ضایع ہوتا ہے ۔ جبکہ اس سے دونوں خطوں کے لوگوں کو زبردست مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ لیکن نہ جانے کیوں دہائیوںپرانے اس عمل کو مسلسل دہرایا جارہا ہے جبکہ اس وقت اس کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی ۔ لیکن پھر بھی دربار موئو کا فرسودہ عمل یہاںجاری ہے ۔ ایک طرف جبکہ حکومت کی طرف سے کفایت شعاری کی تلقین کی جارہی ہے لیکن اس کے باوجود سرکاری طور پر کفایت شعاری نہیں کی جارہی ہے اور دربار موئو جیسی فضول خرچی کا سلسلہ جاری ہے۔ بہر حال اب جبکہ دفاتر جموں منتقل ہورہے ہیں ریاستی حکومت کو سرمائی ایام کے دوران یہاں کے لوگوں کو درپیش مسایل و مشکلات کا ادراک کرکے وادی میں ایک سئینر وزیر کو تعینات رکھنا چاہئے تاکہ وہ ان مسایل و مشکلات کو دور کرسکے جن کا یہاں کے لوگوں کو موسم سرما میں سامنا کرنا پڑتا ہے۔ گذشتہ برسوں ریاستی حکومتوں نے سرمائی ایام کے دوران باری باری وزیروں کو یہاں رکھاتھا لیکن ان کی یہاں موجودگی سے کوئی مسلہ حل نہیں ہوسکا کیونکہ وہ ایک ہفتے کیلئے یہاں آتے تھے اور اس ایک ہفتے کے دوران وہ اپنا زیادہ تر وقت افسروں کے ساتھ میٹنگوں میں گذار کر واپس چلے جاتے تھے اس طرح ان کے پاس لوگوں سے ملنے اور ان کو درپیش مسایل سننے کیلئے وقت ہی نہیں ملتا تھا۔ اور اگر اسی طرح اس بار بھی ہوگا تو عوامی مسایل جو خاص طور پر سرما سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں حل نہیں ہوسکتے ہیں۔ اسلئے وزیراعلیٰ کو اس بارے میں وادی کے لوگوں کی مشکلات کو مدنظر رکھ کر فیصلہ لینا ہوگا تاکہ کشمیری عوام کو سرما کے دوران زیادہ مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ سب سے اہم مسلہ بجلی پانی اور دیگر اشیاے ضروریہ کی فراہمی کا ہوتا ہے ۔ کیونکہ سرمائی ایام کے دوران وادی میں بجلی اور پانی کی بہت زیادہ کمی محسوس کی جاتی ہے اس کے علاوہ ناسازگارموسم کی آڑ میں اشیاے ضروریہ کی مصنوعی قلت پیدا کی جاتی ہے جس کی بنا پر لوگوں سے ان اشیا کیلئے حد سے زیادہ قیمتیں وصول کی جاتی ہیں۔ اسی طرح اس موسم میں اکثر و بیشتر سرینگر جموںشاہراہ گاڑیوں کی آمد ورفت کیلئے بند رہتی ہے جس سے عوام کو گوناگوں مسایل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسلئے اس کا بھی جائیزہ لینے کیلئے ایک ذمہ دار وزیر کا یہاںہونا لازمی ہے تاکہ اس دوران بھی وہ اس بات کا مشاہدہ کرسکے کہ کہیں لوگوں کو اس سے زیادہ پریشانیوں کا سامنا نہ کرناپڑے ۔ شاہراہ کو سرمائی ایام کے دوران ٹریفک کیلئے چالو رکھنے کیلئے متعلقہ ایجنسی کو ابھی سے سخت ہدایات دی جانی چاہئے تاکہ وہ اس بارے میں کسی بھی طرح کی غفلت شعاری کا مظاہرہ نہ کرسکے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں