سوائن فلو سے بچائو کی تدابیر

اس بات کاانکشاف ہوا ہے کہ اس سال اب تک وادی میں پانچ افراد سوائین فلو میںمبتلا ہوکر دم توڑ بیٹھے ہیں اور اب بھی کئی ایسے بیمار ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں جو سوائین فلو میں مبتلا ہیں۔ سوائین فلو کیا ہے کس قسم کی بیماری ہے اور کس طرح پھیلتی ہے؟اس بارے میں عام لوگوں کو معلومات نہیں ہیں اور تعجب کا مقام ہے کہ سرکار کی طرف سے بھی اس بارے میں لوگوں کو پوری طرح سے جانکاری نہیں دی جارہی ہے۔ بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ لوگوں کو یہ معلوم ہی نہیں ہے کہ سوائین فلو کس طرح پھیلتا ہے اور اس سے بچنے کیلئے کیا کچھ کرنا چاہئے۔ جیسا کہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ اب تک پانچ افراد جو اس بیماری میںمبتلا تھے دم توڑ بیٹھے ہیں جبکہ کئی ایک اب بھی اس مہلک بیماری میں مبتلا ہیں۔ اسلئے اس بارے میں محکمہ ہیلتھ کو پوری طرح سے اس کا مقابلہ کرنے کیلئے تیاریاں کرنی چاہئے ۔ اگر اس سے بچائو کیلئے کوئی ویکسین ہے تو اس کا فوری طوراستعمال کیاجانا چاہئے لیکن ایسا لگتا ہے کہ متعلقہ حکام خواب خرگوش میں ہیں اور ان کو اس بات کا کوئی احساس ہی نہیں ہے کہ ایک ایسی بیماری آہستہ آہستہ دستک دے رہی ہے جس نے اب تک پانچ جانیں لی ہیں اسلئے اس سے بچائو کی کوئی نہ کوئی صورت نکالنی ہی پڑے گی۔ یہ پرانا زمانہ نہیں کہ لوگوں کو اس بات کا پتہ ہی نہ چل سکے کہ کہاں کیا ہورہا ہے۔ آج اگر دنیا کے کسی بھی کونے میں کوئی واردات رونما ہوتی ہے تو پل بھر میں پوری دنیا کو اس کا پتہ چل جاتا ہے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ یہاں سوائین فلو کی وبا پھیلی ہوئی ہے اور متعلقہ حکام خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ ایک ڈاکٹر نے گذشتہ دنوں انفرادی حیثیت سے ایک نجی ٹیلی ویثرن چنل پر انٹرویو کے دوران بتایا کہ سوائین فلو سردیوں میں ہی پھیلتا ہے اور اس سے بچنے کیلئے ضروری ہے پوری طرح سے احتیاط برتی جائے۔ اس ڈاکٹر صاحبہ نے بتایا کہ بچوں او رعمر رسیدہ افراد کو خاص طور پر احتیاط برتنی چاہئے اور صبح و شام گھروں سے باہر نکلنے میں احتیاط برتنا لازمی ہے اس کے علاوہ لوگوں کو صلاح دی گئی کہ وہ از خود antibioticsکا کسی بھی صورت میں استعمال نہ کریں کیونکہ ایسا کرنے کی صورت میں لوگوں کو اس کا الٹا اثر لینے کیلئے تیار رہنا ہوگا اسلئے کھانسی نزلہ زکام وغیرہ کی علامات ظاہر ہوتے ہی فوری طور پر ڈاکٹروں کی صلاح لینی چاہئے اور نیم حکمیوں کے پاس جانے سے احتراز کرنا چاہئے۔ متعلقہ محکمے کو چاہئے کہ وہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے لوگوں کو اس بیماری کے بارے میں جانکاری دیں اور خاص طور پر احتیاطی تدابیر اپنانے کیلئے لوگوں کو تاکید کی جائے۔ اس کے علاوہ اگر اس بیماری سے بچنے کیلئے ویکسین ہے تو لوگوں کیلئے اس ویکسین کو ہسپتالوں، ہیلتھ سنڑوں اور ڈسپنسریوں میں دستیاب رکھا جائے اور اگر ویکسین نہیں ہے تو دوسری ایسی کیا تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے جس سے اس بیماری سے بچا جاسکے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں