غفلت شعاری کے مرتکب افسروں کیخلاف کاروائی

 وزیراعلیٰ نے اننت ناگ میں سجائے گئے عوامی دربار میں ان سے ملنے والوں کو اس بات کایقین دلایا کہ ریاستی حکومت لوگوں کے جملہ مسایل حل کرنے کی وعدہ بند ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی نہیںبرتی جائے گی انہوں نے لوگوں کو بتایا کہ عوامی مسایل و مشکلات کا حل تلاش کرنے کیلئے سرکاری مشینری برابر متحرک ہے اور اگر اس کا کوئی کل پرزہ ڈھیلا پڑجائیگا تو لوگوں کو فوری طور یہ معاملہ اعلیٰ حکام کی نوٹس میں لانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مسایل کو حل کرنا ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اس دربار کے دوران درجنوں وفود اور انفرادی سطح پر لوگوں نے وزیر اعلیٰ کو اپنے مسایل و مشکلات سے آگا ہ کیا اور ان کے فوری حل کی مانگ کی۔ جہاں تک سرمائی ایام کا تعلق ہے تو یہ بات بلا روک ٹوک کہی جاسکتی ہے کہ سرما بذات خود اپنے ساتھ مصائیب و مشکلات کے انبار لاتا ہے لیکن ان کو دور کرنے کی ذمہ داری سرکار پر عاید ہوتی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے بار بار لوگوں سے کہا کہ اگر کوئی افسر یا اہلکار ان کے جائیز مسایل و مشکلات حل کرنے میں کسی قسم کی کوتاہی برتے گا تو فوری طور یہ معاملہ ان کی نوٹس میں لایا جاناچاہئے تاکہ وہ از خود اس معاملے کو حل کرنے کے علاوہ غفلت شعاری کے مرتکب افسر یا اہلکار کیخلاف کاروائی کر سکے۔ گلی کوچوں کی حالت زار ، ٹرانسپورٹ سروس میں بے قاعدگی، بجلی اور پانی کی عدم دستیابی اور بے روزگاری نے پوری ریاست کو اپنے شکنجے میں کس کر رکھا ہے۔ کتنے مسایل ہیں جن کی گنتی ناممکن ہے لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ سرکاری انتظامیہ ان کو حل کرنے کی جانب دلچسپی کا مظاہرہ کرے۔ اگرچہ وزیر اعلیٰ نے لوگوں کو اس بات کا یقین دلایا کہ ان کے مسایل حل کرنے کیلئے حکومت وعدہ بند ہے لیکن نچلی سطح پر اس تیز رفتاری کے ساتھ کام نہیں ہورہا ہے جس کی لوگوں کو امید ہے۔ اب وہ کس کے پاس فریاد لے کر جائینگے۔ جیسا کہ اس سے پہلے بھی اس بات کاتذکرہ کیاجاچکا ہے کہ امتحانات سرپر ہیں لیکن بجلی کی فراہمی میں بار بار خلل پڑرہا ہے۔ شڈول کے مطابق اس کی باقاعدہ فراہمی نہیں ہورہی ہے۔ جس کی بنا پر طلبہ کو پریشانیاں لاحق ہورہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی پانی کی فراہمی میں بھی خلل پڑرہا ہے۔ وزیراعلیٰ کو ان سب کے بارے میں جانکاری دی گئی۔ اس بارے میں انہوں نے دونوں محکموں کے چیف انجینئروںکو مطلع کیا اور ان کو بتایا کہ کسی بھی صورت میں اس شیڈول کیخلاف ورزی نہ کی جائے جو بجلی اور پانی کی فراہمی کیلئے پہلے ہی مشتہر کیاگیا ہے۔ لیکن لوگوں نے یہ شکایت کی کہ مشتہر کئے گئے شیڈول پر عمل نہیں کیاجارہا ہے۔ اگرچہ مسلسل خشک سالی کی بنا پر ندی نالوں میں پانی کی سطح کم ہوئی ہے لیکن اس کو مدنظر رکھ کر کٹوتی شیڈول مرتب کیاگیا ہے پھر کیاوجہ ہے اس پر بھی عمل کرنے میں لیت و لعل سے کام لیا جارہا ہے۔ لوگوں نے وزیر اعلیٰ کو بتایا کہ سرمائی ایام کے دوران عوامی مسایل و مشکلات کو دور کرنے کی کوشش کی جائے اور اسکے علاوہ اشیاے ضروریہ کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ ناجائیز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کو یہ موقعہ نہ مل سکے کہ وہ لوگوں کی جیبیں کاٹ لیں۔ وزیراعلیٰ سے یہ بھی مطالبہ کیاگیا کہ سرینگر جموں شاہراہ کو سرمائی ایام کے دوران کھلا رکھنے کی کوشش کی جانی چاہئے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں